خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
پیارے پیغمبر اٹھئے، رات کو کھڑے رہیئے،آپ کی اصل ذمہ داری انسانی سمندر میں تیرنا ہے، مشرق ومغرب شمال وجنوب کی انسانیت کو پیغام پہنچاناہے … … ’’یاایھا الرسول بلغ ماانرل الیک من ربک ‘‘(پ۶،آیت۶۷ ،سورۂ مائدہ) پیارے پیغمبر! جو کچھ آپ پر اتارا گیا ایک ایک تک پہنچا دیجئے، اور جوںکا توں پہنچا دیجئے، یہ آپ کی ذمہ داری ہے، … کہ جس انسانی سمندر میں آپ کو دن بھر تیرنا ہے اس کی تیاری آپ کو رات کے قیام کے ساتھ کرنی ہے اور یہ رات کا قیام آپ کا کیسا ہو وتَبَتَّلْ الیہ تبتیلا… کہ جب آپ ہمارے سامنے کھڑے ہوں تو ایسے ہوں کہ دنیا وما فیھا سے بے خبر، پوری یکسوئی کے ساتھ …… اور یہ ہمارا آپ کا عقیدہ اور ایمان ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے ہر حکم کو کماحقہ ادا کیا ہے، دعوت کی ذمہ داری کو کماحقہ ادا کیا ہے علم کی ذمہ داریوں کو کما حقہ ادا کیا ہے ذکرو تزکیہ کی ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کیا ہےنبوت کی ذمہ داری دعوت ،تعلیم اور تزکیہ : حضورصلی اللہ علیہ وسلم تینوں چیزیں ایک ساتھ لے کر آئے ہیں دعوت، تعلیم اور تزکیہ …اور یہ ہمارا عقیدہ و ایمان ہے کہ جو حق آپ ﷺنے دعوت کا ادا کیا ہے … وہی حق آپ ﷺنے تعلیم کا ادا کیا ہے… اور وہی حق آپ ﷺنے تزکیۂ نفوس کا ادا کیا ہے… کہیں سے کسی طرف کوئی جھول نہیں… کہیں سے کسی طرف کوئی کمی نہیں۔ دعوت کا حق وہ ادا کیا ہے،’’ لعلک باخع نفسک ان لایکونو مومنین، (پ۱۹،آیت۳ ،سورۂ شعراء)