مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
زیرِنگرانوں کے معاملے میں باز پُرس ہوگی کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ؎ تم نے ان کو ہمارے باغیوں کی زبان اور قوانین کی تعلیم تو دلائی اور ہمارے قوانین و احکام سے جاہل رکھا تو اس کا ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ اگر ہمارے وہ اہلِ صلاح و مبلغ بھائی جو دوسروں کے اصلاح کی فکر میں رہتے ہیں اور اس کے لیے کافی وقت صَرف کرتے ہیں ان کی یا ان کے گھر کی حالت ایسی ہو تو ان کو اس کی طرف اور بھی توجہ کی ضرورت ہے، اور عقل و نقل ہر اعتبار سے اپنے توابع کی اصلاح پر زیادہ زور دیں اور زیادہ وقت صَرف کریں کیوں کہ یہ فرض ہے، اور اہلِ محلہ یا بستی والوں کی اصلاح درجۂ فرض میں نہیں بلکہ عام طور پر استحباب کا درجہ رکھتی ہے۔گو اس کے فضائل بہت ہیں مگر فرض صورتیں شاذو نادر ہی نکلتی ہیں جس کے تفصیلی مسائل’’اشرف الہدایات لاصلاح المنکرات‘‘میں درج ہیں۔مبلغین حضرات کو اس کا مطالعہ بہت نافع ہوگا۔ اسی طرح ’’اشرف النصائح لاصلاح القبائح‘‘کے مطالعے سے اپنی اصلاح اور اپنے متعلّقین کی اصلاح کے متعلق ضروری معلومات حاصل ہوں گی اور اصلاح کا طریقہ ’’اشرف النظام‘‘ و’’اشرف الخطاب ‘‘سے معلوم کریں۔ہمارے بعض بھائی ایسے بھی ہیں جو اپنی اور اپنے متعلقین دونوں کی اصلاح سے غافل ہیں۔ان کی حالت سب سے بڑھ کر خطرناک ہے کہ اصلاح کے دونوں اہم فریضوں سے غفلت ہے،اور ایسی غفلت ہے کہ اس سے ہماری اور ہمارے متعلقین کی آخرت کی تباہی اور نقصان کے علاوہ دنیا میں بھی چین و راحت کی زندگی میسّر نہیں ہوتی۔ چین و راحت کی زندگی حسبِ وعدۂ خداوندیمَنْ عَمِلَ صَالِحًا اہلِ ایمان و عملِ صالح والوں کو عطا ہوتی ہے۔ ورنہ طرح طرح کے مصائب و تکالیف خواہ ان کا تعلق حکّامِ وقت سے ہو یا دوسروں سے، بطورِ سزا دنیا میں بھگتنا پڑتی ہیں۔ حدیثوں میں آیا ہے کہ گناہوں کی زیادتی کی صو رت میں حاکموں کو اللہ تعالیٰ سخت بنادیتے ہیں۔(یہ سب رسائل مکتبہ اشرفیہ ------------------------------