مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
بازی و آتش بازی کے لیے پیسے دیے جاویں یا گھر میں ان کی موجودگی میں باجا بجایا جاوے۔ باجا تماشا ویسے بھی جرم اور حرام ہے مگر بچوں کو سنوانا تو ان کو دینی اعتبار سے افیون و سنکھیا کھلانا ہے اس لیے ایسے حضرات کو اپنی اور اپنے گھر کی اصلاح کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے جس کا طریقہ اوپر مذکور ہوچکا ہے۔ بعضے حضرات اس سے زیادہ سخت کوتاہی میں مبتلا ہیں کہ خود تو ماشاء اللہ دین کی طرف متوجہ ہیں مگر بیوی بچوں سے بالکل غافل ہیں۔ خود وضع و لباسِ اسلامی سے آراستہ نظر آتے ہیں مگر ان کی بچیوں کو دیکھیے تو بلا آستین و نصف آستین کے کرتے پہنے پھرتی ہیں۔ جوتا اور لباس انگریزی وضع کے ہیں۔ پردے کی تاکید و اہتمام نہیں۔ ان کے علم میں نامحرم اعزا سے خلط ملط ہونا ہے جس پر نکیر و انکار نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مستورات نہایت باریک لباس پہنتی ہیں،جسم اور بال جھلکتے نظر آتے ہیں جس سے نماز بھی نہیں ہوتی۔ مستورات شرعی پردے کا اہتمام نہیں کرتیں۔ بچوں کو دیکھیےتو انگریزی وضع کے بال ہیں، پائجامہ وغیرہ میں بالکل اسلامی وضع کے خلاف نظر آتے ہیں۔ بعضوں کے بچے شروع ہی سے دنیوی تعلیم میں مشغول ہیں نہ نماز کا اہتمام ہے اور نہ عقیدوں کی صحت کرائی گئی ہے۔ غرض کہ کسی طرح کا ان کے بیوی بچوں میں دینداری کا پتا بھی نہیں۔ اس سے بڑھ کر بہتوں کی حالت ہے کہ داماد دنیا دار جنٹل مین آزاد قسم کا پسند کرتے ہیں۔ صرف دنیا کے مال و جاہ کی وجہ سے دیندار داماد کی تلاش وفکر ہی نہیں کرتے۔ ایسے حضرات کی حالت بہت ہی افسوس کے قابل ہے۔ کیوں صاحب! جب آپ دینداری کو اپنے لیے اختیار کرچکے ہیں اور یہ آپ تسلیم کرچکے ہیں کہ بلا دیندار بنے فلاحِ آخرت حاصل نہیں ہوسکتی تو اس فلاح سے اپنے بیوی بچوں کو محروم رکھنا اُن کی بہی خواہی ہے یا سراسر بدخواہی؟ مگر آپ اپنے بیوی بچوں کو دیندار نہ بنائیں گے تو کون بنائے گا اور قیامت میں اُن کے بارے میں جو باز پُرس ہوگی کہ ہم نے تم کو ان پر حاکم بنایا تھا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم سب نگراں ہو اور سب سے اپنے اپنے