مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
اُصولِ قیام مجلس دعوۃ الحق ۱)کسی مسجد یا کسی اور جگہ جہاں لوگ جمع ہوسکیں اوّلاً دین سیکھنے اور سکھانے کی اہمیت اور فضیلت بتلاکر ان کو متوجہ کیا جاوے کہ اس کام میں مقدور بھر حصہ لیں،اور جو صاحب اپنی اور اپنے متعلقین کی اصلاح چاہیں اور دوسروں کی دینی خدمت کرنا چاہیں وہ فلاں جگہ جاکر اپنے کو پیش کریں اور اس کے حدود و طریقے کو معلوم کرکے حسبِ ہدایت عمل کریں۔ ۲)جو صاحب اپنے کو مجلس دعوۃ الحق کا رُکن بننے کے لیے پیش کریں پہلے اُن کو اشرف النصائح کے مضامین سے مطلع کرکے بتلادیں کہ ان میں سے اسلامی وضع و لباس، نماز باجماعت کی پابندی او رسیاسیاتِ حاضرہ سے عملی علیحدگی فی الحال ضروری ہے۔ بقیہ اُمور کے لیے اصلاح کا پکا ارادہ کافی ہے۔ ۳)جب اس طرح کے کچھ اشخاص تیار ہوجاویں تو سب کو جمع کرکے کہا جاوے کہ اپنے میں سے جن کو دینی باتوں کے علم و عمل میں بڑا اور مستعد خیال کرتے ہوں باتفاق ناظمِ مجلس منتخب کرلیں۔ ۴)ناظمِ مجلس خود اپنا نائب کسی کو تجویز کرلیں۔ ۵)ناظم کے علاوہ بقیہ حضرات اراکینِ مجلس شمار ہوں گے جن میں اضافہ ناظمِ مجلس بعد میں کرتے رہیں اور اس سلسلے کو اہتمام سے پھیلاتے رہیں۔ ۶) ناظمِ مجلس اہم اُمور میں ارکان سے مشورہ کرکے جو مناسب ہو اس پر عمل کریں، کثرتِ رائے کی پابندی ضروری نہیں۔ ۷)اراکین مشورہ دینے کے بعد ناظم کی ہدایت کی پابندی کریں۔ ۸)ناظم کی تبدیلی بھی باتفاقِ آراء ہوگی۔ ۹)ناظمِ مجلس نظامِ اصلاح کی ہدایات کی طرف اراکین کو متوجہ کرتے رہیں اور کوتاہی پر مناسب عنوان سے فہمایش کریں خصوصاً اشرف النصائح کی دفعہ نمبر۱۵ کی طرف۔