مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
تتمۂ رابعہ رسالۂ ہٰذا کی تکمیل کے بعد ’’درِّمنضود‘‘ دیکھ رہا تھا، اس میں نصیحت و تبلیغ کے بارے میں ایک عہد ملا جو بابِ ہٰذا کے لیے بہت مناسب تھا اس کو بعینہٖ نقل کیا جاتا ہے۔ درِّ منضود میں وہ اُمور مذکور ہیں جن پر قطب الارشاد والتکوین امام عبدالوہاب شعرانی کے مشایخ نے عہد لیا ہے جس سے ان اُمور کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔ یہ کتاب قابل ِدید ہے۔ حضرت حکیم الامت مجدّدِاعظم مولانا تھانوی رحمۃاللہ علیہ نے اس کے مطالعے کی تاکید فرمائی ہے۔ وہ عہد نقل کیا جاتا ہے ’’ ہم سے عہد لیا گیا ہے کہ اپنے دوستوں کو جب وہ اپنے شہر میں دوسروں کی نصیحت کے درپے ہوں سیاست (اور تدبیر) کے طریقے بتلادیں۔ کیوں کہ بہت سے نصیحت کرنے والے بغیر سیاست (وتدبیر) کے نصیحت کرتے ہیں تو اس سے شہر میں بڑے بڑے فتنے پیدا ہوجاتے ہیں جو اس گناہ سے بھی اشد ہوتے ہیں جس میں انہوں نے کسی کو نصیحت کی تھی۔ میں نے ایک دفعہ مسجد کے دربان کو دیکھا کہ وہ ایک شخص سے جو مسجد میں اپنے جوتوں کے نیچے کا حصہ دوسرے سے بدون ملائے ہوئے الگ الگ کرکے داخل ہوا تھا، کہہ رہا ہے کہ او یہودی! اور نصرانی! او کتّے! او خدا سے نہ ڈرنے والے!اپنے جوتوں کو باہم ملالے۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ والی کی عدالت میں مقدمہ کی نوبت پہنچی اور اہل ِمحلّہ کی دو پارٹیاں ہوگئیں (ایک تو نواب کی طرف دوسری مسجد میں آنے والے کی طرف) اور باہم سب میں خصومت ہوگئی اور والی کی عدالت میں سب کے سب پہنچے اور بہت سامالی نقصان برداشت کرنا پڑا اور سارے محلّے والوں میں عداوت کھڑی ہوگئی اور میں ان کے درمیان صلح کرانے سے عاجز ہوگیا حتیٰ کہ شعبان کی پندرھویں رات میں بھی صلح نہ کراسکا (حالاں کہ اس رات میں سب کو خصومت و عداوت سے توبہ کرکے ضرور صلح کرلینا چاہیے کیوں کہ اس رات میں سب گناہ گاروں کی مغفرت ہوجاتی ہے، بجز مشرکین کے اور باہم خصومت رکھنےوالوں کے) پس معلوم ہوا کہ جو شخص بدون تدبیر کے نصیحت کرے گا وہ اصلاح سے زیادہ فساد برپا کرے گا۔ اور اگر جامع مسجد کا دربان یوں کہتا: اے بھائی! اپنے جوتوں کو