مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
کچھ ان ہی سے مانگتا تھا۔آخر تو نے ایسی شرک کی باتیں کیوں کیں؟ دنیا وی حاکموں کے جیل خانے سے تو ڈرتاتھا اور ان کی خلاف ورزی سے بچتا تھا۔ آخر میرے قید خانہ جہنم سے جس میں آگ و غیرہ کا سخت سے سخت عذاب ہونا میرے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا تھا تو تُو نے اُس سے بچنے کا انتظام کیوں نہیں کیا؟ کیا ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ کو نہیں بتایا تھا کہ ہمارے قید خانہ یعنی جہنم میں اونٹ کے برابر سانپ ہیں جن کے ڈسنے سے چالیس سال تک زہر کی لہر آتی رہے گی اور ایسے ایسے بچھو ہیں جیسے پالان کَسا ہوا خچّر جس کے ڈسنے سے اُس کا زہر چالیس سال تک رہے گا اور یہ کہ جہنم کی آگ کی گرمی و تیزی یہاں کی آگ سے ستّر گنا زیادہ ہے ان تمام چیزوں کے بتلانے کے بعد پھر بھی تونے ہمارے حکموں کی پابندی نہ کی،آخر اس ڈھٹائی کا کیا جواب ہے؟ اور کیا ہمارے رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بتلایا تھا کہ میری (اللہ تعالیٰ) اطاعت و فرماں برداری سے جنت ملے گی جہاں ایسی ایسی نعمتیں ہیں کہ کسی کا وہم و گمان بھی نہیں ہوسکتا ہے۔ جہاں راحت ہی راحت ہے۔ او رراحت بھی دائمی (جس کی تفصیل علاماتِ قیامت و شوقِ وطن میں دیکھی جاسکتی ہے) سو ایسی آرام و راحت کی جگہ کے لیے جان بوجھ کر کیوں نہ تیاری کی؟ سو اس کا ہم کیا جواب دیں گے۔ سوچئے کہ ان باتوں کا ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟ اگر ہمارے پاس صحیح جواب نہ ہوا تو ہمارا کیا حشر ہوگا؟ لہٰذا ان سوالات کے جوابات کی تیاری کی فکر ابھی سے ہونا ضروری ہے اور وہ تیاری علم ِدین کا سیکھنا سکھانا اور اس پر عمل کرنا کرانا ہی ہے۔ایک اہم بات میرے عزیز و محترم بزرگو! جس طرح ایک تندرست انسان کے لیے صحیح دل و دماغ، آنکھ، کان، ناک اور صحیح ہاتھ پیر کی حاجت ہے، اسی طرح ایک مسلمان کے لیے صحیح عقائد و عبادات اور صفائئ معاملات و درستگیٔ معاشرت و اصلاحِ اخلاق کی ضرورت ہے۔اور جس طرح ایک انجن کو کام دینے کے لیے بھاپ پہیّوں اور دوسرے کل