مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ قَالَ اللہُ تَعَالٰی: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَکُمۡ وَ اَہۡلِیۡکُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُہَا النَّاسُ وَ الۡحِجَارَۃُ؎ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک حکم دیا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ یعنی جہنم سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ اپنے اور اپنے متعلقین کو جہنم سے بچانا فرض ہے۔ جس کا طریقہ صرف یہی ہے کہ خود اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کیا جائے اور اپنے متعلقین کو ان پر عمل کرایا جائے۔ اور احکام پر عمل کرنا احکام کے علم اور قلب کی قوت پر موقوف ہے،کیوں کہ مشاہدہ ہے کہ بعض دفعہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی مخالفت احکام کا صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔مثلاً: عام طور پر لوگ میّت کو قبر میں دفن کرتے وقت چت لٹاکر منہ قبلہ رُخ کردیتے ہیں یہ ان کی غلطی ہے۔ حکم یہ ہے کہ میّت کو داہنی کروٹ پر لٹایا جائے کہ سینہ قبلے کی طرف رہے۔ اسی طرح عرقِ گلاب یا کیوڑا قبر میں بعض جگہ لوگ ڈالتے ہیں، حالاں کہ اس کی کوئی اصل و ثبوت نہیں بلکہ علماء نے اس کی ممانعت فرمائی ہے کہ اسراف میں داخل ہے اور شرعی حد سے تجاوز ہے۔ بعضے لوگ کفن میں عطر لگاتے ہیں، اس کو علماء نے جہالت سے تعبیر کیا ہے۔ جس طرح قبر میں چٹائی، دری بچھانا جائز نہیں ہے اسی طرح عرقِ گلاب و کیوڑا ڈالنا اور کفن میں عطر لگانا درست نہیں۔ اسی طرح بعضے اشخاص ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا، انگریزی بال رکھنا، سہرا باندھنا، فخرونام کے لیے شادی وغیرہ میں دعوت کرنا حالاں کہ دوسرے گناہوں سے بہت سخت پرہیز کرتے ہیں اور بعض دفعہ علم کے باوجود عمل نہیں ہوتا مثلاً لوگ جانتے ہیں کہ باجا بجانا اور سُننا گناہ ہے مگر نکاح اور دیگر تقریبات میں اس کا انتظام رواج کی بنا پر کرتے ہیں اور اس رواج ------------------------------