مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
کے خلاف کرنے کی ہمّت نہیں پاتے۔ اسی طرح عام طور پر لوگ جانتے ہیں کہ داڑھی منڈوانا، کترانا جب کہ ایک مشت سے کم ہو، عورتوں اور لڑکیوں کو ترکہ نہ دینا، جماعت چھوڑنا، نماز نہ پڑھنا، جھوٹ بولنا، غیبت کرنا ، سود لینا دینا، رشوت لینا دینا، جوا کھیلنا، زنا کرنا ناجائز و حرام ہے اور اسی طرح بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ تاش و شطر نج و پچیسی کھیلنا، پتنگ اڑانا،نکاح میں سہرا باندھنا، نام آوری اور مخلوق میں تعریف کے خیال سے دعوت کرنا منع اور سخت بُرا ہے مگر عام رواج کی وجہ سے اس سے باز رہنے یا اس کی مخالفت کی ہمت نہیں ہوتی۔ یہی حالت ضعفِ قلب و ضعفِ ہمّت کہلاتی ہے۔ غرض کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی خلاف ورزی اور گناہوں میں مبتلا ہونے کی دو وجہ ہیں، کسی جگہ دونوں باتیں پائی جاتی ہیں اور کسی جگہ ایک، دیہات میں زیادہ تر غلطیاں صحیح علم نہ ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں جیسا کہ بہت جگہ تجربہ ہوا ہے کہ دیہات والوں کو جو دین کی بات سمجھادی جائے اُس پر عمل کرنے لگتے ہیں، مگروہ باتیں جن کا تعلق رواجِ عام سے ہو اس میں وہ ضرور اس رواج سے متأثر ہوتے ہیں اور شہر و قصبے کے لوگ زیادہ تر غلطیوں میں ضعفِ ہمّت کی وجہ سے مبتلا ہیں،اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ عقائد میں شکوک و شبہات بھی اس کوتاہی میں معین ہوجاتے ہیں۔ بہرحال اب جب کہ احکام پر عمل نہ کرنے کے دو سبب معلوم ہوئے ان کا علاج سہل و آسان ہوگیا، وہ یہ ہے کہ صحیح علم حاصل کیا جائے۔ جس کے چند طریقے بیان کیے جاتے ہیں: ۱۔ اپنے گھر پر کسی وقت دینی کتاب سنانے کا معمول کرنا۔ مثلاً حیات المسلمین، اصلاح الرسوم،اغلاط العوام ، حقوق الاسلام ، جزاءالاعمال ، فرع الایمان ، اشرف النصائح و اشرف الہدایات۔ ۲۔ اپنے محلّے کی مسجد میں یا کسی جگہ جہاں لوگ جمع ہوسکیں دینی کتابیں پندرہ بیس منٹ روزانہ کسی وقت سنانے یا سننے کا معمول بنانا۔ ۳۔ اپنے گھر پر ہفتہ وار ورنہ جب بھی ممکن ہو وعظ کہلوانا۔ ۴۔ جو لوگ پڑھے لکھے نہیں ہیں وہ پڑھے لکھوں سے کتاب سنانے کی درخواست