مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
ہوتا ہے اور اخلاص کے بغیر تمام اعمال اور عبادات رائیگاں ہوجاتے ہیں جیسا کہ حدیثِ ریا میں اس کی تصریح موجود ہے( کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے تین آدمیوں کے بارے میں جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا اور جہنم میں سب سے پہلے ان ہی کو پھینک دیا جاوے گا۔ ان میں ایک وہ عالم ِدین اور عالمِ قرآن ہے جو عمر بھر قرآن سیکھنے سکھانے میں مشغول رہا۔ دوسرا ایک دولت مند سخی ہوگا جس کو دنیا میں اللہ نے خوب دولت سے نوازا اور وہ اللہ کی دی ہوئی دولت نیکی کے کاموں میں خوب خرچ کرتا تھا۔ اور تیسرا شخص ایک شہید ہوگا جو جہاد کے میدان میں دشمن کی تلواروں سے شہید ہوگا۔ لیکن ان تینوں آدمیوں نے یہ اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہیں کیے تھے بلکہ دنیا کی شہرت اور عزت کے لیے کیے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن جب یہ تینوں قسم کے آدمی اللہ تعالیٰ کے حضور میں پیش ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہم دلوں کی نیتوں کا حال جانتے ہیں تم لوگوں نے یہ اچھے اعمال ہماری رضا کے لیے نہیں کیے تھے بلکہ دنیا میں ناموری اور شہرت کے لیے کیے تھے اور یہ چیزتمہیں دنیا میں مل چکی اب تمہارے لیے یہاں کچھ نہیں ہے۔ اس کے بعد ان سب کو ان ہی اعمال کی وجہ سے گھسیٹ کر جہنم میں پھنکوادیا جائے گا۔ حدیث میں ہے کہ یہی وہ پہلے جہنمی ہوں گے جن کے لیے سب سے پہلے جہنم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ حدیث جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت فرماتے تھے تو کبھی کبھی مارے خوف کے ان کی چیخیں نکل جاتی تھیں اور بے ہوشی کا دورہ پڑجاتا تھا۔ اور ایک دفعہ جب یہ حدیث ایک تابعی نے حضرت ابوہریرہ سے سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نقل کی تو حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنے روئے کہ لوگوں کو ان کی جان کا خطرہ ہوگیا اور بہت دیر کے بعد ان کی حالت ٹھیک ہوئی اور یہ فرمایا صَدَقَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ، مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ الخ ؎ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کوئی اپنے اعمال سے دنیا اور دنیا کی زیب و زینت چاہے گا اس کو اس ------------------------------