مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
کے اعمال کا پورا نتیجہ دنیا میں ہم دیں گے اور اس میں بالکل کمی نہیں کی جائے گی اور ان کے لیے آخرت میں سوائے دوزخ کی آگ کے اور کچھ بھی نہ ہوگا اور جو عمل انہوں نے کیے تھے وہ ضایع جائیں گے اور سارے اعمال بے کار اور لاحاصل ہوں گے۔ جامع) ارشاد فرمایا کہ ہر دین کا خادم دوسرے دین کے خادم کو اپنا رفیق سمجھے فریق نہ بنائے۔ افسوس کہ آج کل تقابل، تفاضل اور تحاسد کا معاملہ بہت بڑھ رہا ہے۔ اس کا اہتمام کیا جاوے کہ صرف تعارف پر اکتفا کیا جاوے اور تفاضل و تقابل سے احتیاط کی جائے۔ مالیات کے سلسلے میں فرمایا کہ ہم نے دعوۃ الحق کا جب سلسلہ شروع کیا تو چٹکی کا فنڈ قائم کیا اور ’’چٹکی کا قاعدہ اور چٹکی کا فائدہ‘‘ کے عنوان سے پرچہ بھی شایع کیا ہے ۔ پہلے اس کو ایک گاؤں میں شروع کیا۔ چند گھروں میں ڈبّے رکھنے کے بعدا یک غریب بُڑھیا کا گھر چھوڑ دیا گیا کیوں کہ یہ بہت مفلس اور نادار تھی لیکن جب اسے پتا چلا کہ گھروں میں آٹا وصول کرنے کے لیے ایک خاص نظام کے تحت ڈبّے رکھائے گئے ہیں یا ہانڈیاں مٹی کی رکھوائی گئیں ہیں اور گھر والی عورتیں کھانا پکاتے وقت ایک مٹھی آٹا اس میں ڈال دیں گی اور ہفتہ بھر جو آٹا اس طرح جمع ہوگا وہ قرآنِ پاک کا مدرسہ چلانے کے لیے استاد کی تنخواہ اس کی قیمت سے دی جاوے گی تو وہ بُڑھیا شام کو حاضر ہوئی اور مدرسے کے ناظم سے درخواست کی کہ ہمارے یہاں بھی ہانڈی یا ڈبہ رکھ دیجیے مجھے اس ثواب سے محروم نہ کیجیے،جس وقت ہمارے یہاں کھانا پکے گا ہم بھی ایک مٹھی آٹا ڈال دیں گے اور جس وقت فاقہ ہوگا نہ ڈالیں گے۔ اس بڑھیا کے خلوص سے اہل ِمدرسہ اور پورا گاؤں بہت متأثر ہوا اور ان بڑی بی کے یہاں بھی چٹکی فنڈ کا نظام قائم کردیا گیا۔ ارشاد فرمایا کہ اس چٹکی فنڈ کی برکت سے ہر گاؤں کے مدرسے مقامی امداد سے چل رہے ہیں، باہر سے امداد کو خلافِ غیرت سمجھتے ہیں،اور ایسے گاؤں جہاں کہ جمعہ جائز نہیں وہاں سات سو آٹھ سو روپے کا آٹا فروخت ہوتا ہے اور تین چار اساتذہ کام کررہے ہیں۔ ابتدائی دور میں چٹکی فنڈ سے سات سو روپے کی وصولی تھی لیکن اب یہ