مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
اس کو مقصودیت کا درجہ دینا حد سے تجاوز ہوگا ۔دین کی خدمت کو صرف نوعی نہ بنایا جائے۔ دین کے جس نوع میں جو لگے دوسرے نوع کی توہین نہ کرے، جنس پر نظر رکھے۔مثلاً: اہلِ مدارس کو صرف اپنا ہی مدرسہ سامنے نہ ہو کہ بس ہمارے ہی مدرسے سے دین پھیلے، یہی مدرسہ ترقی کرے، بلکہ تمام دینی مدارس کی ترقی کے لیے دل سے دُعا گو اور مخلصانہ طور پر بہی خواہ رہے۔ اگر شخصی طور پر دین کی خدمت کررہا ہے تو یہی مقصود نہ ہو کہ صرف ہم سے ہی دین پھیلے۔ اوردوسروں سے اگر پھیلے تو کیا اشکال اور کیا فکر ہے۔ یہ تو نفس کا کیدو مکر ہے اور حُبِِّ جاہ کی بیماری ہے کہ صرف ہم سے دین پھیلے۔ اخلاص کا معیار یہ ہے کہ جس سے بھی دین پھیلے خوش ہو اور اس کے ساتھ تعاون کرے وَ تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡبِرِّ؎ کا جب حکم ہےتو جہاں بھی برّ (نیکی) ہو وہاں تعاون کرے اور اپنی رفاقت پیش کرے، اور ہر خادم ِدین کو اپنا رفیق سمجھے فریق نہ سمجھے،اپنے کو مقدّم نہ کرے دین کو مقدم کرے۔ جس سے بھی دین کا کام احسن طریق پر ہو اس کی اعانت کرے۔ ارشاد فرمایا کہ تفاضل ایک نوع میں ہوتا ہے نہ کہ دو نوع میں۔ کوئی اگر سوال کرے کہ آنکھ بہتر ہے یا کان بہتر ہے یا زبان بہتر ہے توکیا جواب دیا جاوے گا۔ ہر ایک ان میں ضروری ہے۔ ان میں تفاضل کا سوال ہی غلط ہے،کیوں کہ یہ الگ الگ نوع ہیں۔البتہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ دونوں آنکھوں میں جو زیادہ دیکھتی ہے وہ افضل ہے اور دونوں کانوں میں سے جو زیادہ سنتا ہے وہ افضل ہے۔اس مثال سے اب یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے کہ تعلیم اور تبلیغ اور تزکیہ میں کس کی ضرورت زیادہ ہے۔ یہ سوال مناسب نہیں، کیوں کہ یہ انواعِ مختلفہ ہیں۔ انواعِ مختلفہ میں تفاضل نہیں ہوتا۔ لہٰذا ہر ایک کی ضرورت ہے۔تعلیم بھی ضروری اور تزکیہ بھی ضروری،البتہ تزکیۂ نفس کی اہمیت تعلیم اور تبلیغ سے زیادہ ہے یعنی تعلیم اور تبلیغ کی ضرورت کے ساتھ تزکیۂ نفس کا اہتمام زیادہ ضروری ہے،اس لیے کہ تعلیم اور عمل اور تبلیغ بدون تزکیہ مقبول نہیں۔ جس کا مرکز سچے اللہ والوں کی خانقاہیں ہیں۔ تزکیۂ نفس ہی سے اخلاص دل میں پیدا ------------------------------