مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
وَالنَّسَحروف کی صحت نہایت ضروری ہے۔ اب تو بیعت کرتے وقت احقر عہد لیتا ہے کہ تلاوت مع الصحت کروں گا۔ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’جمال القرآن ‘‘کے اندر لَحنِ جلی کو حرام لکھا ہے یعنی اگر صاد کو سین پڑھ دیا یا ذال کو زا پڑھ دیا وغیرہ۔ صرف دو مہینہ اور صرف دس منٹ انسان محنت کرے کسی قاری صاحب کے پاس تو ان شاء اللہ تعالیٰ بقدرِ ضرورت تلاوت صحیح کرسکے گا۔ تھانہ بھون میں بعض بڑے بڑے محدث اور مفسر کو بھی نورانی قاعدہ پڑھنا پڑا۔ آج ہمارے مشایخ کے یہاں بھی اس کا اہتمام ہونا چاہیے کہ خود بھی تلاوت مع الصحت کا اہتمام ہو اور طالبین کو بھی توجہ دلائیں۔ مراقبہ اور استغراق اور وظائف اور حقائق و معارف کے ساتھ ایسے ضروری اُمور کابھی اہتمام ضروری ہے۔ یہ حق تعالیٰ کی عظمت کا حق ہےکہ ان کے کلام کی عظمت ہو،اور عظمتِ کلام کا حق ہے کہ صحتِ حروف کے ساتھ تلاوت ہو۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو بے فکری اور کاہلی اور سستی سے صحیح نہ پڑھنا کس قدر گستاخی ہے اور اندیشہ مؤاخذہ کا ہے۔تصوف کا ایسا غلبہ کہ شریعت کے مسائل کا اہتمام نہ رہے یہ بہت خطرناک حالت ہے۔ اور اگر مغلوب الحال ہے تو مقتدا بنانا ایسے مغلوب کو جائز نہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ؎ خواجہ پندارد کہ دارد حاصلے حاصلِ خواجہ بجز پندارنیست ارشاد فرمایاکہ دُعا نہ قبول ہونے کا سبب حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ اگر امر بالمعروف و نہی عن المنکربھلائی کا پھیلانا اور بُرائی سے روکنا اُمت میں جاری نہ رہا تو عذاب ِعام میں ابتلا ہوگا، اور دُعا بھی قبول نہ ہوگی۔ ارشاد فرمایاکہایک صاحب نے کہا کہ فلاں شادی میں شرکت سے بڑا صدمہ ہوا،فوٹو کھینچے گئے، اور ریکارڈنگ بھی ہوئی، گانا بجانا اور تصویر کھنچانے کے گناہ میں ہم بھی مبتلا ہوگئے۔ وہاں سے اٹھنے میں خاندان کے لوگوں کا لحاظ اور دباؤ معلوم ہوا۔ میں