مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
آج کل مسجد کے جسم پر توجہ ہے اور رُوح پر نہیں۔ معلوم کیا کہ مسجد کتنے میں تعمیر ہوئی تو معلوم ہوا دو لاکھ کی تعمیر ہوئی۔میں نے عرض کیا کہ مسجد تو دولاکھ کی اور مؤذن ساٹھ روپیہ کا! ایک مسجد میں تکبیر میں مؤذن صاحب نے اس طرح کہا :حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاۃِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاۃِ اور کسی کو فکر بھی نہیں، اذان اور تکبیر کو غور سے سننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ تکبیر کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ ایک سانس میں چارمرتبہ اَللہُ اَکْبَرُ کہے، پھر ایک سانس میں اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ، اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ کہے، پھر ایک سانس میں اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ، اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ کہے، پھر ایک سانس میں حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃْ کہے، اور پھر ایک سانس میں حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ کہے،پھر ایک سانس میںاَللہُ اَکْبَرُ، اَللہُ اَکْبَرُ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُکہے۔ ایک غلطی قرائے کرام یہ کرتے ہیں کہ یہاں بھی تجوید کا قاعدہ جاری کرتے ہیں مثلاً:اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ،اَشْھَدُاَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ، اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ،اَشْھَدُاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہِ ح حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃِ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوۃ کہتے ہیں حَیَّ عَلَی الْفَلَاحِ حَیَّ عَلَی الْفَلَاحیعنی پہلے کلمے کے آخری حرف کے اعراب کو ظاہر کرتے ہیں اور دوسرے کلمےکے آخری حرف پر جزم پڑھتے ہیں حالاں کہ یہاں قراءت کا قاعدہ جاری کرنا ممنوع ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:اَلْاَذَانُ جَزْمٌ وَالْاِقَامَۃُ جَزْمٌ وَالتَّکْبِیْرُ جَزْمٌاور ایک روایت میں اَلتَّکْبِیْرُ جَزْمٌ وَالتَّسْمِیْعُ جَزْمٌ ہے۔؎ ایک جگہ حاضری ہوئی،مسجد بہت شاندار لیکن امام صاحب نے جب نماز پڑھائی تو بے حد صدمہ ہوا۔ امام صاحب نے سورۂ ناس اس طرح پڑھائی:مِنَ الْجِنَّاتِ ------------------------------