مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
نے کہا: اچھا اگر شادی والے ایک خوبصورت پلیٹ میں چاندی کے ورق کے ساتھ مکھی کی چٹنی پیش کرتے تو آپ خاندان کے لحاظ اور دباؤ سے کھالیتے یا نہیں یا اٹھ کر چلے آتے؟ کہنے لگے: اٹھ کر چلا آتا۔فرمایا کہ پھر حسّی منکر کے ساتھ جو معاملہ ہے کم از کم وہی معاملہ شرعی منکر سے بھی کیجیے۔ ایک صاحب نے کہا کہ مکھی کی چٹنی تو طبعی منکر بھی ہے طبعی کراہت معلوم ہوتی ہے اور گناہوں سے اس طرح کی طبعی کراہت نہیں معلوم ہوتی۔ میں نے کہا: اچھا سنکھیا اگر کھلائی جاوے کسی شادی میں تو آپ کھالیں گے؟ کیا سنکھیا بھی طبعی منکر ہے؟ طبعی کراہت تو اس سے نہیں ہوتی۔ پس جس طرح یہ عقلی منکر آپ نہیں کھاسکتے اسی طرح گناہ کے ساتھ معاملہ کیجیے۔ ارشاد فرمایاکہ بعض وقت روشنی ہے،علم ہے، یقین بھی ہے مگر عمل کی قوت نہیں ہوتی،مثلاً:کمرے میں روشنی ہے اور الماری میں سیب نظر آرہا ہے اور اس کے وجود اور نافع ہونے پر یقین بھی ہے، ڈاکٹروں نے اس کو کھانے کے لیے حکم بھی دیا ہوا ہے اور دل بھی چاہتا ہے مگر سیب تک اُٹھ کر جانے کی قوت نہیں ہوتی۔ پھر ڈاکٹر طاقت کا انجیکشن لگاتا ہے اور وٹامن کے کیپسول کھلاتا ہے جب طاقت آجاتی ہے تو خود اٹھ کر الماری تک جاکر سیب کھاتا ہے ۔ یہی حال ان اہلِ علم کا ہے کہ علم کی روشنی بھی ہے، یقین بھی ہے، مگر عمل کی قوت نہیں ہے۔ اللہ والوں کی صحبت میں آنے جانے سے کچھ ہی دن میں قوت آنی شروع ہوجاتی ہے اور اعمال میں ترقی شروع ہوجاتی ہے۔ ارشاد فرمایاکہ بعض وقت سردی لگتی ہے، بارش ہورہی ہے،سستی محسوس ہورہی ہے کہ ایک پیالی چائے پی لینے کے بعد مزاج بدل جاتا ہے۔ جب ایک پیالی چائے مزاج بدل دیتی ہے تو اللہ والوں کی صحبت کیا روحانی سستی دور نہیں کرسکتی؟ کیا صالح کی صحبت ایک پیالی چائے سے بھی کم درجہ رکھتی ہے! ارشاد فرمایا کہ ظاہری اعمال کا فساد اس کے دل کے فساد و خرابی پر دلالت کرتا ہے، دلیل یہ حدیث ہے :اِذَافَسَدَتْ فَسَدَتْ کُلُّہٗ؎جب دل صالح ہوجاتا ہے ------------------------------