مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
نہ جاہ نہ شہرت نہ ہجومِ خلق یعنی معتقدین کا مجمع وہاں کام نہ آوے گا ؎ ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہیں گے تہہِ خاک ہم تو اکیلے رہیں گے پس صراحی کی مثال سے خام سالک اور پختہ سالک کے حالات خوب سمجھ میں آسکتے ہیں۔ خام سالک دوسروں سے متأثر ہوجاتا ہے اور پختہ سالک دوسروں کو متأثر کردیتا ہے۔ ارشاد فرمایاکہ اہل اللہ سے بغض و عناد اور ان کو ایذا دینا دنیا ہی میں اکثر ذلیل کرتا ہے ؎ بس تجربہ کردیم دریں دیرِ مکافات با درد کشاں ہرکہ در افتاد بر افتاد ارشاد فرمایا کہ ایک جگہ حاضری ہوئی، اذان کی غلطیاں سن کر سخت رنج ہوا۔ میں نے وعظ میں صرف یہ گزارش کردی کہ اذان صحیح نہیں ہے اذان کی اصلاح ہونی چاہیے۔ بعد میں کمیٹی کے کسی صاحب نے دریافت کیا کہ صاحب! وہ کیا غلطیاں ہوئیں ہیں ذرا ہم کو بتادیجیے۔ میں نے کہا: بہت اچھا سنیے:۱)اللہ کو اتنا کھینچا جس کا کوئی قاعدہ نہیں۔ شرح وقایہ میں دیکھیے تلحین کو ناجائز لکھا ہے۔۲)لَااِلٰہَ میں اِلٰہَ کو دومد کے برابر کھینچا۔ ۳)رسول میں واؤ کو کھینچا،جس سے مد پیدا ہوا۔ معلوم ہوا کہ مؤذن صاحب کی تنخواہ صرف ساٹھ روپے ہے۔ بتائیے! پھر اتنی معمولی تنخواہ میں بَڑھیا مؤذن کیسے مل جاوے گا؟ افسوس کہ اس زمانے میں وکیل بَڑھیا ہو، ڈاکٹر بَڑھیا ہو، انگریزی پڑھانے کا استاد بَڑھیا ،مگر مؤذن اور قرآن پڑھانے والا استاد سستا ہو۔ دنیاوی تعلیم کا مدرّس بَڑھیا اور اس کی تنخواہ بھی زیادہ اور قرآنِ پاک جو احکم الحاکمین کا کلام ہے اس کے لیے استاد سستا والا۔ اصلی گھی تو زیادہ پیسے سے ملتا ہے اور سستا مال تو ڈالڈا ہی ہوگا۔ ایک جگہ حاضری ہوئی تو اذان اس قدر جلد جلد دی کہ درمیان میں اتنا موقع ہی نہ دیا کہ اذان کا جواب دیا جاسکے۔