مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
کرنے والوں میں تکبر اور اپنے بڑوں پر اعتراض، بدگمانی وغیرہ کی بیماری پیدا ہوجاتی ہے اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹخنے سے نیچے پائجامہ یا لنگی کو یا کرتا و قمیص و عبا کو لٹکانے سے منع فرمایا۔ (احقر جامع عرض کرتا ہے کہ بعض اہلِ علم نے بعض روایت کی تکبر کی قیدِ سے اس کو قید احترازی سمجھ کر یہ سمجھ گئے کہ اگر تکبر سے نہ ہو تو درست ہے۔یہ ان کو سخت علمی دھوکا شیطان نے دیا ہے۔ علمائے محققین فرماتے ہیں کہ تکبریہاں قیدِ واقعی ہے ،جو بھی لٹکاتا ہے ٹخنے کے نیچے وہ تکبر ہی سے لٹکاتا ہے (البتہ وہ بیمار جن کا پیٹ آگے نکل آتا ہے)۔ اس کی ایک نظیر قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ خَشۡیَۃَ اِمۡلَاقٍ؎ تنگ دستی کے خوف سے اپنے بچوں کو مت قتل کرو۔ تو کیا مال داروں کو قتلِ اولا دجائز ہوجاوے گا؟ بلکہ یہاں وہی قید واقعی ہے، کہ جو بھی قتل کرتا تھا بخوفِ تنگ دستی کرتا تھا۔) ارشاد فرمایاکہ جب تورات پر عمل نہ کر نے والوں کو قرآنِ پاک میں گدھا قرار دیا گیا تو قرآنِ پاک جو تورات سے افضل ہے اس کے علم رکھنے کے بعد بے عمل ہونے والا کیا مستحقِ وعید نہ ہوگا؟ ارشاد فرمایاکہ جو آدمی خام ہوتا ہے وہی اہلِ دولت کے ہاتھ فروخت ہوجاتا ہے۔یا خوفِ مخلوق سے یا طمعِ مال سے اپنا دینی رنگ اور مذاق اور اُصولِ شریعت کو توڑ دیتا ہے۔ اس کی ایک عجیب مثال اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے، صُراحی خام میں پانی ڈالیے وہ مٹی گھل کر اپنا وجود بھی غائب پائے گی اور اگر آگ میں پکادی جاوے تو پختہ صراحی کا پانی صراحی کے وجود کو نہیں مٹاسکتا بلکہ صراحی اس کو اپنے فیض سے ٹھنڈا کرے گی۔ یہی حال اس عالم ِربّانی کا ہے جو بزرگوں کی صحبت میں پختہ ہوجاتے ہیں پھر مخلوق سے اختلاط اشاعتِ دین کے لیے ان کو مضر نہیں ہوتا، نہ جاہ نہ مال نہ شہرت کوئی فتنہ ان کو خراب نہیں کرتا۔ استقامت کی نعمت ان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور ہر وقت صاحبِ نسبت ہونے کے سبب حق تعالیٰ پر نظر ہوتی ہے کہ قبر میں صرف رضائے حق کام آوے گی، ------------------------------