مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
(ضروری نوٹ) احقر مرتب محمد اختر عفااللہ عنہ موجودہ غلط رسم و رواج کے سبب اپنے ذمہ اس وصیت کو واجب سمجھتا ہے کہ اپنے پسماندگان اور احباب کو یہ وصیت کردوں کہ میرا جہاں بھی انتقال ہوجاوے وہی پر دفن کرکے حق تعالیٰ کی مغفرت و رحمتِ واسعہ کے سپرد کردیا جاوے۔اور ہر گز وطن نہ لایا جاوے، رونمائی ہر گز نہ کی جاوے۔ مضمون بالا کو جب لکھ چکا تو حضرت مفتی رشید احمد صاحب سے اس مضمون کی اشاعت کے لیے مشورہ کیا۔ تو فرمایا:ضرور شایع کیا جاوے۔نیز فرمایا کہ حضرتِ اقدس دامت برکاتہم نے جو ذکر میرا کیا ہے وہ مبہم ہے میرا نام شایع کردیا جاوے تاکہ جو کوتاہی مجھ سے علانیہ ہوئی ہے اور اس کی توبہ بھی علانیہ مجھ پر واجب ہے اس اشاعت سے میرا واجب ادا ہوجاوے گا یعنی رونمائی پر نکیر نہ کرنے کا واقعی مجھے غم ہے جس کا ذکر میں نے خود حضرت سے کیا تھا۔ ارشاد فرمایاکہ نقل کی برکت اصل تک پہنچادیتی ہے۔ ڈرائیور کی نقل کرتے کرتے آدمی ڈرائیور ہوجاتا ہے۔جادوگروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وضع قطع اور لباس کی نقل کی تھی، نقل کی برکت سے سیرت بھی بدل دی گئی اور سب کو ایمان عطا کردیا گیا۔ اور سب کے سب کافر سے صحابی ہوگئے۔ اسی طرح شیطان کی نقل سے شیطان کی سیرت بھی آجاتی ہے۔ مثلاً: شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمادیا کہ ہر گز ہرگز کوئی بائیں ہاتھ سے نہ کھاوے۔اس قدر اہتمام سے منع فرمایا جو نہایت ہی بلیغ انداز ہوتا ہے۔ اس حدیث سے یہ سبق ملتا ہے کہ فاسقین کی نقل سے سخت پرہیز کرنی چاہیے۔ اور راز اس میں یہ ہے کہ جس کی نقل کی جاتی ہے اس کی یا محبت یا عظمت دل میں ہوتی ہے پھر اس کی عادتیں اندر آنے لگتی ہیں۔ دل میں جس کی عظمت و محبت ہوتی ہے اعمال اس عظمت و محبت پر شہادت پیش کرتے ہیں۔چناں چہ انگریز کو دیکھیے بائیں ہاتھ سے کھاتے ہیں ان کے اندر شیطان کی خود بینی تکبر اور بڑوں پر اعتراض کا مادّہ ہوتا ہے۔اور جو لوگ پائجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکاتے ہیں چوں کہ یہ متکبرین کی وضع ہے اس لیے اس کی نقل