مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
ہوگئے۔ ایک اہلِ علم بلکہ اہلِ فتویٰ و اہلِ فقہ کی حق پرستی سے بڑا دل خوش ہوا جب انہوں نے کہا: مجھے نہایت ندامت ہے کہ ہم نے اس منکر پر اعلان کے ساتھ نکیر کیوں نہ کی اور استغفار کرتا رہتا ہوں۔ پھر گزارش کرتا ہوں کہ کسی شہر سے جنازے کو منتقل ہر گز ہر گز نہ کیا جاوے اور نہ رونمائی وغیرہ کی رسم کی جاوے ،نہ جمعہ کا انتظار کیا جاوے، نہ کسی رشتہ دار کا انتظار کیا جاوے،جس قدر جلد ممکن ہوسکے نمازِ جنازہ اور تدفین میں جلدی کی جائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کی برکت سے قلیل تعداد بھی مغفرت کے لیے کافی ہے۔ انتقال سے کفن پہنانے تک جس قدر لوگوں کو چاہیں جمع کرلیں، اس کے بعد پھر تاخیر کی گنجایش نہیں۔ ماشاء اللہ مولانا شبیر علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مسئلے پر خوب ہمّت سے عمل کیا تھا۔ حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ تیار تھا اورشرکتِ جنازہ کے لیے اسپیشل ٹرین سہارنپور سے چل پڑی تھی، بہت بڑی تعداد معتقدین اور خواص متعلقین کی، حاضری میں زیادہ تاخیر نہ ہوتی،کیوں کہ سہارنپور سے تھا نہ بھون کی مسافت زیادہ نہیں،مگر مولانا شبیر علی صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نماز ِجنازہ کا حکم دیا ،اور سختی سے اعلان کیا کہ قانونِ شریعت کا احترام کیا جائے گا، ہرگز اب تاخیر نہ ہونی چاہیے۔ چناں چہ مولانا ظفر احمد صاحب تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے نماز ِجنازہ پڑھائی اور اسپیشل ٹرین کا انتظار نہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعت کے ہر قانون پر اہتمام سے توفیقِ عمل بخشیں،آمین۔ ارشاد فرمایاکہ جب دین شکنی اور دل شکنی کا تقابل ہو تو دین کو مقدم رکھا جاوے اور سب مصالح کو قانونِ شریعت کے احترام و عظمت پر مثلِ مصالحہ پیس دینا چاہیے۔ ایسے مواقع پر جذبات پر شریعت کو ترجیح دینی چاہیے۔ مخلوق کی چہ میگوئیاں اور طعن کی ہر گز پروا نہ کرنی چاہیے ؎ ما نمی خواہیم ننگ و نام را گر چہ بدنامی است نزدِ عاقلاں