مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
نے شام کو ہر روز بیٹھنا شروع کیا۔مولوی محمد حسن صاحب نے کوئی تقریر نہیں کی نہ کوئی وعظ کہا مگر ان کا غصہ کم ہونے لگا ۔تو بات کیا تھی؟چوں کہ مولانا میں حلم اور ضبط کا مادّہ بہت تھا اس باطنی صفت کا عکس اور فیض ان کے باطن پر آہستہ آہستہ اثر کرنے لگا۔ اس لیے گزارش کیا کرتا ہوں کہ دینی احباب کو آپس میں ملنے جلنے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ ارشاد فرمایاکہ آج کل تاخیرِ جنازہ کی بیماری اُمّت میں عام ہورہی ہے۔ جذباتِ محبت و عقیدت میں اہلِ علم حضرات کے ماحول میں بھی یہ مسئلہ نظر انداز ہوجاتا ہے۔ کہیں تو جنازے کو منتقل کرنے کی غلطی ہوتی ہے اور کہیں رونمائی میں تاخیر کی جاتی ہے حالاں کہ اَسْرِعُوْابِالْجَنَازَۃِ دُوْنَ الْخَبَبِ کا حکم ہے، جنازے کو جلد دفن کرنے کا حکم ہے اس میں دو حکمت ہے: اگر نیک ہے تو اپنے عیش و آرام کی جگہ جلد پہنچ جاوے اور اگر بد ہے تو اس کو اپنے کندھوں پر دیر تک کیوں رکھا جاوے۔ اس مسئلے کی فقہاء نے تصریح فرمادی ہے کہ اگر جمعہ سے قبل تدفین ممکن ہے تو جمعہ کا انتظار کرنا جائز نہیں، تھوڑے آدمی سنت اور رضائے حق کے مطابق نجات اور مغفرت کے لیے کافی ہیں برعکس کثیر تعداد جو خلافِ سنت اور خلافِ رضائے حق ہو یہ کچھ مفید نہیں۔ حدیثِ پاک میں ہے کہ مسافرت کی موت سے شہادت کا درجہ ملتا ہے پھر جنازے کو وطن لانے کی کیا ضرورت ہے؟بے اصولی اور قانون شکنی جب اہلِ علم کی جانب سے ہونے لگے گی تو عوام کو کون سمجھاسکتا ہے۔ بعض اہلِ علم ایسے وقت اکابر کا عمل پیش کرتے ہیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا فقہ کی یہ سب کتابیں عمل کے لیے نہیں لکھی گئیں ہیں؟ عمل کو کتاب سے ملائیے نہ کہ اشخاص سے،البتہ کتاب کو اشخاص سے سمجھیے۔ جن اکابر کے ساتھ ایسا معاملہ کوئی پیش آچکا ہے وہ پسماندگان کے معاملات ہیں۔کہیں جذبات،کہیں غلبۂ عقیدت، کہیں خاموشی، کہ شاید وہ کہیں گے شاید وہ کہیں گے۔ بروقت نکیر کرنی چاہیے۔ ارشاد فرمایاکہ بعض اکابر کی رونمائی میں تاخیر کی خبر مجھے ایک صاحب نے ہردوئی پہنچائی۔ میں نے ان سے کہا: اس منکر پر کسی نے نکیر بھی کی؟ تو وہ خاموش