مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
کی بیماری میں اللہ تعالیٰ ان ہی کے پاس مل جائیں گے، ان کی خدمات میں لگارہے اور ان کے قریب رہتے ہوئے جو کچھ دین کی خدمات کرسکتا ہو کرتا رہے۔ ارشاد فرمایا کہ بیماری کی دو قسمیں ہیں: اصلی اور عارضی ۔جیسے قبض سے درد ِ سر ہو تو اصلی بیماری قبض ہے اور دردِ سر عارضی ہے، اسی طرح قلب کی غفلت اور خرابی اور سختی اصلی بیماری ہے پھر اس کی خرابی سے اعمال میں خرابی عارضی بیماری ہے۔ پس اصلی بیماری کا علاج کرنا چاہیے یعنی دل کاعلاج اللہ والوں سے کرانا چاہیے پھر دل کی درستی سے اعمال اور اخلاق کی درستی خود بخود ہونے لگتی ہے۔ ارشاد فرمایا کہ حضرت مولانا عبدالرحمٰن کیمبل پوری محدّث تھے،ایک اشکال ہوا کتابوں سے حل نہ ہوا۔ حضرت حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ کو لکھا کہ حضرت! زکوٰۃ ادا کرنے میں انشراحِ قلبی نہیں ہوتا تو نفس کی ناگواری کے ساتھ بدون انشراح یہ ادائیگی خلافِ اخلاص معلوم ہوتی ہے۔ جواب ارشاد فرمایا کہ زکوٰۃ ادا کرنا فرض ہے۔ اگر نفس پر آرے بھی چلیں تو بھی اخلاص کے خلاف نہیں بلکہ ایسی حالت میں اجر زیادہ ہے،آپ وقت پر زکوٰۃ ادا کردیا کریں بشاشت ہو یا نہ ہو۔ بشاشت اور اخلاص میں تلازم نہیں۔اخلاص ہوتا ہے۔اخلاص کے لیے بشاشت لازم نہیں۔ بلکہ بدون بشاشت کی صورت میں دونا اجر ہے۔ مولانا کو جواب سے وجد آگیا۔ ارشاد فرمایاکہ نفسِ اجتماعِ احباب بھی نافع ہے خواہ کوئی دینی مذاکرہ ہو یا نہ ہو صلحاء کا آپس میں ملنا نافع ہے،قلب کےاندر جو صفاتِ حمیدہ ہیں ان کا عکس دوسرے پر پڑتا ہے۔رات کی رانی خاموش ہے مگر اپنی خوشبو سے معطّر کردیتی ہے۔ بجلی کا بلب خاموش ہے، روشنی پہنچارہا ہے اسی طرح اللہ والوں کی صحبت نفع پہنچاتی ہے خواہ وہ خاموش ہی بیٹھے رہیں۔ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ایک صاحب نے خط لکھا کہ میرے اندر غصہ بہت ہے، علاج تحریر فرمائیے۔ تحریر فرمایا کہ آپ مولوی محمد حسن صاحب انوار بک ڈپو لکھنؤ کی خدمت میں جاکر کچھ دیر بیٹھ جایا کریں۔ انہوں