مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
کا گناہ گار بھائی رہتا تھا، ایک دن اس گناہ گار بھائی کا ارادہ ہوا کہ چلو اپنے بھائی کے ہاتھ پر توبہ کرلوں اور اوپر عابد بھائی نے ارادہ کیا چلو جس طرح نیچے والا گناہ گار بھائی گناہ سے مزہ لے رہا ہے میں بھی کچھ لے لوں،نیچے والا اوپر کو چلا اوپر والا نیچے کو چلا دونوں اچانک گر کر مرگئے۔ بتائیے کہ دونوں کا خاتمہ کیسا ہوا؟ فیصلہ کرلیجیے۔ ارشاد فرمایاکہ دین سیکھنے کے لیے پہلے زمانے میں کیسا ذوق تھا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک شخص دمشق سے مدینہ شریف حاضر ہوا، صرف التحیات سیکھنے کے لیے کہ ہم کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسے التحیات پڑھا کرتے تھے ویسی التحیات سکھادیجیے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے اس جذبے سے رونے لگے اور فرمایا: اللہ اکبر! کیا طلب ہے۔ جنتی کا نمونہ معلوم ہوتا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ بیعت ہوکر اپنے حالات کی اطلاع مرشد کو نہ کرے اور نہ اصلاح کرائے تو اس بیعت سے کیا فائدہ۔یہ تو وعدہ خلافی ہے۔ ایک صاحب کی بیوی کو فالج گرا ہوا ہے، انہوں نے تبلیغ میں جانے کا مسئلہ معلوم کیا تو فرمایا: حال غالب نہ ہونا چاہیے، حال کو تابع اعمال کے رکھے۔ اہلیہ کو یاماں باپ کو بیمار چھوڑ کر تبلیغ میں نہ جائے،اگرچہ کوئی اور خدمت کرسکتا ہو،مگر شوہر سے جو تقویت بیوی کو ہوتی ہے وہ دوسروں سے نہیں ہوتی،اسی طرح ماں باپ کو اولاد سے جو تقویت ہوتی ہے وہ دوسرے خدّام سے نہیں ہوسکتی۔ اسی موقع پر بزرگوں کا یہ ارشاد ہے ؎ اے قوم بحج رفتہ کجائید کجائید معشوق ہمیں جاست بیائید بیائید بقرعید کی نو تاریخ کو عرفات کے میدان میں تمام حاجی صاحبان جمع ہیں اور کوئی صاحب ِحال جذبۂ عشقِ الٰہی سے سرشار جاکر کعبہ کا طواف کریں اور عرفات نہ آویں تو ان کا حج بھی نہ ہوگا اور بجائے قربِ الٰہی کے اور دوری میں مبتلا ہوگئے۔ کیوں کہ اس دن تو کعبہ والا محبوب عرفات کے جنگل میں ہے، ان کی خاص تجلیاتِ قرب و رضا حدود ِ عرفات کے اندر ہیں۔جہاں بھی شاہ خیمہ لگالے انعام وہیں ملے گا۔ پس بیوی یا ماں باپ