مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
قلب اور نشاطِ قلب کی بہت ضرورت ہے اور اس ثم خیراً میں یہ سب باتیں کافور ہوجاتی ہیں۔اور متعدد شیوخ کے ہاتھوں پر بیعت ہونے میں بھی یہی خرابیاں ہیں شیخ بھی جانچ کر بنانا چاہیے تاکہ پھر کسی دوسرے کے یہاں نہ جانا پڑے اور اختلاف ِقوانین سے پریشانی نہ ہو اور دونوں کے یہاں سے محروم نہ ہو کیوں کہ کسی شیخ کے دل میں تمہاری وقعت اور محبت نہ رہے گی۔ نعوذ باللہ من ذالک! ۱۷) طالبِ علم سے اگر استاد کی بے ادبی یا نافرمانی یا ایذا رسانی ہوجائے فوراً نہایت نیازو عجز سے معافی چاہے اور الفاظِ معافی کے ساتھ اعضا سے بھی عاجزی و انکساری و ندامت ٹپکے،یہ نہیں کہ لٹھ مار دیا کہ اجی! معاف کردو اگر دل میں ندامت ہوگی تو اعضاسے بھی ندامت ٹپکے گی۔ اگر نہ بھی ہو تو بناوٹ ہی کردے۔ اصل نہیں تو نقل ہی سہی، مگر تاخیر نہ کرے کیوں کہ اگر استاد دنیا دار ہوگا تو تاخیر کرنے سے اس کی کدورت بڑھ جائے گی اور تمہارا نقصان ہوگا،اور اگر دیندار ہوگا تو گو وہ کدورت وغیرہ خرافات کو اپنے دل میں جگہ نہ دے گاکیوں کہ اس کا مشرب یہ ہوتا ہے ؎ آئین ماست سینہ چو آئینہ داشتن کفر ست در طریقتِ ما کینہ داشتن بہ نشیں در دل ویرانہ ام اے گنج مراد کہ من ایں خانہ بسودائے تو ویراں کردم مگر رنج طبعی ہوگا اور یہ بھی طالب کے لیے مضر ہوگا،کیوں کہ اس حالت میں انشراحِ قلب نہ رہے گا اور بغیر انشراحِ قلب نفع نہ ہوگا۔ اور تاخیر کرنے میں یہ بھی خرابی ہے کہ جتنی تاخیر ہوگی اتنا ہی حجاب بڑھتا جائے گا۔ ۱۸) طالبِ علمِ دین کی اللہ تعالیٰ کے یہاں بڑی عزت ہے اور بڑا مرتبہ ہے۔ اسے گناہ پر جرأت نہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ خلافِ حیا اور خلافِ مروّت ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ان کے لیے فرشتوں سے پر بچھوائیں اور وہ اللہ میاں کی نافرمانی کرکے انہیں ناخوش کریں۔ اور اللہ میاں ان کے عیوب کو چھپائیں اور یہ گناہوں کی کثرت کریں۔اور