مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
یہ بھی واضح رہے کہ جن کے رُتبے زیادہ ہوتے ہیں ان کو زیادہ مشکل ہوتی ہے ؎ جن کے رُتبے ہیں سوا ان کو سوا مشکل ہے ؎ نزدیکاں را بیش بود حیرانی پس طلبہ کو چاہیے کہ اپنے رُتبے پر رہیں ؎ تو برسرِ قدر خویش باش و وقار بازی و ظرافت بہ ندیماں بگزار ۱۹) چھوٹے پن کے استاد کو بعد اپنے بڑے ہوجانے کے بھی استاد سمجھنا چاہیے۔ اور ان کا ادب، لحاظ، خدمت بہت کرنی چاہیے۔ بڑے استاد سے بھی ان کا زیادہ ادب کرنا چاہیے۔ کیوں کہ چھوٹے نے تمہارے ساتھ زیادہ محنت کی اور بہت مغز مارا ہے۔ حضرت مولانا تھانوی رحمۃ اللہ علیہ اپنے شروع کے اساتذہ کا نام وعظ میں بیان فرماتے ہیں،تواضع و لیاقت اسی میں ہے۔ اس کے خلاف میں تکبر اور ناشکری ہے۔ اور وعید مَنْ لَّمْ یَشْکُرِالنَّاسَ لَمْ یَشْکُرِ اللہَ؎ میں داخل ہونا ہے۔ اور حضرت مولانا تھانوی ترتیبِ رتبہ والدین استاد و پیر میں یوں فرماتے ہیں: سب سے زیادہ رتبہ باپ کا ہے بعد کو استادِ ظاہری کا،پھر پیر کا۔ باپ موجدِ مادّہ ہے۔ استاد مادے کا ترتیب دینے والا اور پیر مادۂ مرتب پر نقشہ پھیرنے والا اور آراستہ کرنے والا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ موجدِ مادّہ کا مرتبہ زیادہ ہونا چاہیے۔ ۲۰) کسی طالبِ علم کی سمجھ اور حافظہ وغیرہ پر حسد نہ کرے کیوں کہ اس سے کچھ فائدہ نہ ہوگا ہاں دنیا و آخرت کا نقصان ہوگا۔ دنیا کا نقصان یہ ہے کہ ہر وقت غم اور فکر میں رہے گا اور دل منتشر رہے گا اور انتشارِ قلب کے ساتھ نہ بات سمجھ میں آوے گی اور نہ پڑھی ہوئی یاد رہے گی۔ اس کے لیے فراغتِ قلب کی ضرورت ہےجس کو اس رسالے میں بارہا لکھ چکا ہوں۔ اور دین کا نقصان یہ ہے کہ حسد نیکیوں کو ایسا کھا جاتا ------------------------------