مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
۱۵) طالبِ علم کو چاہیے کہ حق پسندی اپنا شعار رکھے اور ہٹ دھرمی سے بہت اجتناب کرے۔ سرمایۂ راحتِ دنیا و دین میں یہی خصلت ہے۔ اَللّٰھُمَّ اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَہٗ وَاَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَہٗ؎ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ؎ ۱۶) طالبِ علموں کو چاہیے کہ جس مدرسے میں جس مدرّس سے پڑھنا چاہیں پہلے وہاں کے مدرسہ اور مدرّس کے قوانین دریافت کرکے اپنے ذہن میں خوب غور کرلیں کہ ان قوانین کی پابندی مجھ سے ہوسکے گی یا نہیں، اگر نہیں ہوسکتی تو پھر کوئی بات ہی نہیں اپنے گھر بیٹھے رہیں۔ اگر ہوسکتی ہے تو خوب پختہ ہوکر داخل ہوں اور ان قوانین کی پابندی کریںاور علم حاصل کریں۔ پھر وہاں سے کہیں دوسری جگہ نہ جاویں۔’’ یک درگیر محکم گیر ‘‘پر عمل کریں۔ اور ثم خیراً کا مرض نہ ہونے دیں۔ یعنی یہاں سے وہاں اور وہاں سے وہاں نہ جاویں اس میں بہت سی خرابیاں ہیں۔ ایک یہ کہ ہر استاد کی نظر سے اتر جائے گا اور سب کہیں گے کہ یہ ہرجائی ہے، یہاں سے کہیں اور جگہ چلا جاوے گا اور جہاں سے جائے گا پھر وہاں داخل نہ ہوسکے گا ۔ دوسرے یہ کہ ہر مدرسے کے قوانین جدا ہوتے ہیں اس سے یہ خرابی ہوگی کہ پہلی پڑھائی بے کار ہوجائے گی۔ مثلاً کسی مدرسے میں یہ قانون ہے کہ تجوید ضرور پڑھائی جائے اور کہیں کا قانون یہ ہے کہ تجوید کا نام نہ رہے اور تم تجوید والے مدرسے سے کچھ تھوڑا ہی سا پڑھ کر چلے گئے تو یہ پڑھا ہوا کچھ کام نہ دے گا۔ اور وہ بھی بھول بھال جائے گا۔ غرض کہ تین خرابیاں ہیں: استاد کے دل میں وقعت نہ ہونا، اس کا مہربان نہ ہونا، پہلے مدرسے میں پھر داخل ہونے کے قابل نہ رہنا۔ پہلی پڑھائی کا بے کار ہوجانا اور ایک خرابی یہ ہوتی ہے کہ دوسری جگہ انتظامِ سکونت و خوراک وغیرہ میں دقّت کا پیش آنا اور دل کا متردّد رہنا۔ اور تحصیلِ علم میں فراغتِ قلب اور جمعیتِ ------------------------------