مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
۱۳) پڑھنے میں نیت خدمتِ دین اور رضائے خداوندی کی رکھے اور عزت و جاہِ دنیوی کی نیت ہر گز نہ کرے۔ اچھی نیت سے اگر پڑھے گا تو زمانۂ طالبِ علمی میں اگر مرجائے گا تو شہید ہوگا اور قیامت میں علماء کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور دن رات جو محنت کی، دماغ وغیرہ خرچ کیا ہے اور پڑھا ہے سب ان شاء اللہ تعالیٰ نامۂ اعمال میں دیکھے گا۔ اور دوسری نیت سے ان سب باتوں سے محروم رہے گا اور مستحق اور موردِ عتابِ خداوندی ہوگا۔ نعوذ باللہ من ذالک! ۱۴)طلبہ کو چاہیے کہ اپنا شوق اور طلب اور محنت استاد کو دکھائیں استاد خود مہربان ہوجائے گا اور ان شاء اللہ پوری توجہ کرے گا ؎ چوں شمع پیے علم باید گداخت کہ بے علم نتواں خدا را شناخت بِقَدْرِ الْکَدِّ تُکْتَسَبُ الْمَعَالِیْ وَمَنْ طَلَبَ الْعُلٰی سَہِرَ اللَّیَالِیْ بقدرِمحنت علوِمرتبہ حاصل ہوتا ہے۔ جو علوِ مرتبہ کا طالب ہوتا ہے راتوں کو جاگتا ہے۔ تَرُوْمُ الْعِزَّ ثُمَّ تَنَامُ لَیْلًا تم عزت چاہتے ہو اور راتوں کو سوتے ہو۔ یَغُوْصُ الْبَحْرَ مَنْ طَلَبَ اللَّاٰلِیْ موتی کا طالب دریا میں غوطے لگارہا ہے۔ جیسا طالب ہوتا ہے اور جیسی طلب ہوتی ہے استاد کی جانب سے ویسا ہی فیض ہوتا ہے۔ عادۃ اللہ یوں ہی جاری ہے ؎ فہمِ سخن تا نکند مستمع قوتِ طبع از متکلم مجوئے فسحتِ میدانِ ارادت بیار تا بزند مردِ سخن گوئی گوئے