مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
تو درو گم شو وصال این ست و بس تو مباش اصلًا کمال این ست و بس ۱۱) طالبِ علم کو بڑی ضرورت فراغتِ قلب کی ہے یعنی قلب کا کسی چیز سے یا کسی شخص سے متعلق نہ ہونا۔ یعنی حقّہ یا پان تمباکو وغیرہ کا عادی نہ بنے اور نہ کسی اَمْردلڑکے یا عورت سے ناجائز تعلق پیدا کرے۔ ورنہ علم سے بوجہ آفاتِ دینی و دنیوی کے محروم رہے گا۔ اور رسوائی و ذلت ہوگی۔ مدرسے سے خارج کردیا جاوے گا ؎ ما ہیچ ندا ریم غمِ ہیچ ندا ریم دستار ندا ریم غمِ پیچ نداریم ہے وہ عاقل جو کہ آغاز میں سوچے انجام ورنہ نادان بھی سمجھ جاتا ہے کھوتے کھوتے اور نہ کسی طالبِ علم سے دوستی پیدا کرے کہ جس سے کسی کو موقع بدگمانی کا ہو، اور نہ دشمنی پیدا کرے کہ اس سے لڑنے جھگڑنے میں وقت خراب ہو ؎ آئین ماست سینہ چو آئینہ داشتن کفرست در طریقتِ ما کینہ داشتن ۱۲) طالبِ علم کو چاہیے کہ بعد فارغ ہونے کے کسی اللہ والے کی خدمت میں رہ کر کچھ دنوں اصلاح ظاہر و باطن کی کرے ؎ ہیچ نکشد نفس را جز ظلِّ پیر دامنِ آں نفس کش را سخت گیر تب معلّمی کرے، تاکہ خود گناہِ ظاہر و باطن سے اجتناب کرے اور اس کا اثر متعلمین میں یعنی شاگردوں پر پڑے ؎ قال را بگزار مردِ حال شو پیشِ مرِد کاملے پامال شو