مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
محروم رہوں گا اور آخرت میں بدگمانی کے وبال میں گرفتار ہوں گا۔ اور یہ خیال کرے کہ دوسرے کے کام کی فکر میں کیوں پڑوں۔ یکساں برتاؤ کرنا استاد کا کام ہے، وہ اپنا کام کریں یا نہ کریں، وہ اپنے کام کے ذمہ دار ہیں۔ اور میرا کام ہے حسنِ ظن اور اطاعت اور خدمت، میں اپنا کام کروں۔ اور بدگمانی کا یہ بھی نقصان ہے کہ تم کو استاد اور طالبِ علم محسود علیہ سے دشمنی ہوجائے گی۔ اور دشمنی میں جانبین کا جان و مال عزت و آبرو معرضِ خطر میں ہوجاتا ہے۔ قصہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام واخوتہٖ علٰی نبینا وعلیہم السلام کا پیشِ نظر رکھناچاہیے ۔ ہر چھوٹے بڑے کو یہ برتاؤ یاد رکھنا چاہیے۔ مثلاً: پیر، استاد، باپ کے ساتھ ان کے چھوٹوں کو جتنا حسن ظن رکھنا ضروری ہے استاد پر تساوی فی المعاملات وغیرہ اس سے زیادہ ضروری ہے۔ کیوں کہ ان کا فعل ان ہی تک نہ رہے گا بلکہ ہر شاگرد کے رگ وریشہ میں سرایت کرے گا اور ان کا اثر دوسروں میں پہنچے گا ؎ بے ادب تنہا نہ خود را داشت بد بلکہ آتش در ہمہ آفاق زد خلاصہ یہ ہے کہ بدگمانی سے بہت پرہیز اور مصلحت میں بھی زیادہ غور و خوض نہ کرے بلکہ اپنے دل میں یہ سمجھ لے کہ ہوگی کوئی مصلحت۔ یہ طریقہ سرمایۂ راحتِ دارین ہے۔ ۱۰) استاد کی روک ٹوک اگر پڑھنے میں ہو تو اس کو بُرا نہ سمجھے اور نہ چہرے پر شکن پڑے،نہ ملال ظاہر کرے، اس لیے کہ اس سے استاد کے دل میں انقباض پیدا ہوجائے گا۔ اور دروازہ نفع کا بند ہوجائے گا۔ کیوں کہ یہ موقوف ہے انشراحِ دل اور مناسبت پر اور صورتِ مذکورہ میں دونوں باتیں نہیں ہیں۔ بہت بڑا قاعدہ اور جلد منفعت کی کنجی یہ ہے کہ جس سے نفع حاصل کرنا ہو خواہ خالق یا مخلوق سے اس کے سامنے اپنے کو مٹادے اور فنا کردے اور اپنی رائے و تدبیر کو بالکل دخل نہ دے، پھر دیکھے کیسا نفع حاصل ہوتا ہے۔ اور یہ بڑا کمال ہے ؎