کفروا من اہل الکتاب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم واﷲ یختص برحمۃ من یشاء واﷲ ذوالفضل العظیم۰ ما ننسخ من اٰیۃ اوننسہا (البقرہ: ۱۰۵،۱۰۶)‘‘ تورات اور انجیل کے منسوخ ہو جانے کے سبب وہ لوگ حسد کرتے تھے اور نہیں جانتے کہ اﷲتعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں پر قرآن نازل ہو۔ اس لئے اﷲتعالیٰ ان کو جلاتا ہے کہ: ’’فقد اٰتینا آل ابراہیم الکتاب والحکمۃ (النسائ:۵۴)‘‘ مسلمانوں کو آل ابراہیم اس لئے کہا کہ حضورﷺ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ہیں اور اہل کتاب کو حضرت اسماعیل علیہ السلام سے بھی حسد ہے۔ اس طرح اﷲتعالیٰ نے جتلادیا کہ محمدﷺ بھی آل ابراہیم ہیں اور پھر اس لئے بھی آل ابراہیم کہا کہ حضرت ابراہیم نے دعاء کی تھی کہ یا رب مکے والوں میں رسول پیدا کر۔ جو ان کو ’’الکتاب والحکمۃ‘‘ سکھلادے۔ یہاں اﷲتعالیٰ نے آل ابراہیم، نبی حضورﷺ کو الکتاب والحکمت دینے کا ذکر کر کے یہ جتلادیا کہ دعائے ابراہیم قبول کر لی گئی اور آل ابراہیم کو الکتاب والحکمۃ دے دی۔ حضورﷺ فرماتے ہیں کہ میں دعائے ابراہیم اور بشارت عیسیٰ ہوں اور آیت ’’فقد اٰتینا اٰل ابراہیم الکتاب والحکمۃ‘‘ سے اگلی آیت یعنی ’’فمنہم من اٰمن بہ ومنہم من صدعنہ وکفیٰ بجہنم سعیرا (النسائ:۵۵)‘‘ یعنی بعض اہل کتاب تو اس الکتاب والحکمۃ پر ایمان لے آتے ہیں اور بعض خود بھی ایمان نہیں لاتے اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے جہنم ہے۔ اگر الکتاب والحکمۃ سے صحائف سابقہ مراد لئے جائیں تو اہل کتاب تو ان کو مانتے ہیں۔ پھر من صد عنہ کے کیا معنی۔
اہل اسلام مفسرین کی رائے کو تو احمدیہ جماعت کچھ کم ہی وقعت دیتی ہے۔ اس لئے میں ان کا حوالہ پیش نہیں کرتا۔ قادیانی جماعت نے تاحال تمام قرآن مجیدکی تفسیر نہیں لکھی۔ جس کا حوالہ دیا جائے۔ ہاں مولوی محمد علی صاحب امیر جماعت احمدیہ لاہور نے بیان القرآن لکھا ہے۔ جس میں انہوں نے میری تائید کی ہے۔ دیکھو ص۳۵۲ زیر آیت حصہ اوّل لکھتے ہیں۔
یہاں آل ابراہیم کو یعنی مسلمانوں کو دو چیزیں دینے کا ذکرکیا۔ کتاب اور حکمت اور ملک عظیم۔
۷… ’’وانزل اﷲ علیک الکتاب والحکمۃ وعلمک مالم تکن تعلم وکان فضل اﷲ علیک عظیما (النسائ:۱۱۳)‘‘