کے لئے آمادہ۔ غرض یہ نہیں کہ ان میں کہ ہر ایک کو اپنی زندگی میں کامیابی بھی نصیب ہو اور وہ اس حد تک کامران وخوش بخت بھی ہو کہ بہر آئینہ ایک نمونے کا معاشرہ قائم کر کے دنیا سے رخصت ہو۔ بلکہ صرف یہ ہے کہ ان کے پیغام اور دعوت میں انقلاب آفرینی اور تغیر وتعمیر کی پوری صلاحیتیں موجود ہوں۔
اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی اور ہے اس کو سمجھ لینے کے بعد نتائج خودبخود آپ کے ذہن میں آنا شروع ہو جائیںگے اور وہ ہے۔ حکومت، ریاست یا ہیئت حاکمہ یہ ہے زمانہ کا اوّلین مفہوم! یا نبوت کا حقیقی مخاطب! یا حریف۔ اس کی یہ کوشش رہتی ہے کہ خیالات وافکار اور رسم ورواج کے سانچے اس طرح ڈھلیں کہ جس سے اس کے اقتدار کو ٹھیس نہ لگے۔ لہٰذا نبوت کی زد میں سب سے پہلے وقت کی یہی حکمران قوتیں آتی ہیں۔ سب سے پہلے انہی ایوانوں میں ایک جھٹکا اور زلزلہ محسوس ہوتا ہے۔ یعنی عوام الناس سے بھی قبل نمرود دعوت ابراہیمی کے دور رس نتائج پر نظر ڈالتا ہے اوربنی اسرائیل اور قبطیوں سے بھی پیشتر خود فرعون اس کا دھڑ کا دل میں پاتا ہے۔ اس مختصر تمہید کے بعد مسئلہ بڑی حد تک نکھر گیا ہے۔ اب یہ بتائیے کہ مرزاقادیانی کے ادّعائے نبوت سے وقت کے کن تقاضوں کا جواب ملا اور وقت کے کون کون سوال حل ہوئے اور انگریزی حکومت ان کی دعوت سے کس حد تک متأثر ہوئی۔ گورنمنٹ ہاؤس میں کیا غلغلہ ہوا اور بکنگھم پیلس میں کہاں کہاں شگافوں نے منہ کھولا۔ جواب میں اتنی مایوسی اور قنوط ہے کہ اسے جواب سے تعبیر کرنا ہی غلط ہے۔مرزاقادیانی کے سارے لٹریچر کو کھنگال ڈالنے کے بعد بھی دعوت یا پیغام کے قسم کی کوئی چیز نہیں ملتی۔ وقت کے وہ سوالات جن پر ان کے معاصرین نے نہایت خوبی اور بلاغت سے بحثیں کی ہیں۔ ان کی مصنفات کے صفات ان سے بالکل تہی ہیں۔ ان کی کتابوں سے یہ بالکل مترشح نہیں ہوپاتا کہ یہ کوئی سلجھا ہوا پروگرام لائے ہیں یا ان کی کوئی دعوت ہے یا موجودہ عصر کے تہذیبی وثقافتی رجحانات کے خلاف یہ اپنے مستقل بالذات خیالات رکھتے ہیں۔ یا اسلام ہی کی کوئی ایسی تعبیر پیش کرنا چاہتے ہیں جو وقت کے شکوک وشبہات کا ازالہ کر سکے اور اسلامی مؤقف کو موجودہ نظریات کی روشنی میں زیادہ وضاحت سے بیان کر سکے۔
ان میں سے کسی چیز کو بھی مرزاقادیانی نے چھوا تک نہیں۔ تمام تصنیفات گھٹیا قسم کی مناظرانہ بحثوں سے معمور ہیں۔ جن میں نہ تنقید کا کوئی اصول مدنظر ہے، نہ صحت مند طرز نگارش کی کوئی جھلک اور حکومت کے سامنے تو انہوں نے یوں پوٹاٹیک دیا ہے۔ جس پر آج پورانا یونینسٹ بھی شرماجائے۔ اب اگر یہ نبوت ہے تو پھر ہمیں بتادیجئے کہ ڈھونگ کسے کہتے ہیں؟