(دافع البلاء ص۲۰، خزائن ج۱۸ ص۲۴۰) پر شعر ہے ؎
ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء ص۱۳، خزائن ج۱۸ ص۲۳۳) پر لکھتے ہیں کہ: ’’اے عیسائی مشزیو! ابن المسیح مت کہو۔ دیکھو آج تم میں ایک ہے جو اس مسیح سے بڑھ کر ہے۔‘‘
(ازالہ اوہام ص۱۵۸، خزائن ج۳ ص۱۸۰) پر لکھا ہے ؎
اینک منم کہ حسب بشآرات آمدم
عیسیٰ کجاست تابہ نہد پا بہ منبرم
(حقیقت الوحی ص۱۴۸، خزائن ج۲۲ ص۱۵۲) پر لکھا ہے: ’’مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگرمسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہوتا تو وہ کام جو میں کرسکتا ہوں۔ ہرگز نہ کرسکتا اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہورہے ہیں۔ وہ ہرگز نہ دکھاسکتا۔‘‘
(حقیقت الوحی ص۱۵۵، خزائن ج۲۲ ص۱۵۹) پر لکھتے ہیں کہ: ’’یہ شیطانی وسوسہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ کیوں تم مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں افضل قرار دیتے ہو۔‘‘
(درثمین فارسی ص۱۶۳، نزول المسیح ص۹۹، خزائن ج۱۸ ص۴۷۷) پر لکھتے ہیں ؎
کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است درگریبانم
یعنی آپ کو سید الشہداء سے بھی افضل تر ہونے کا دعویٰ ہے۔ پھر (البشریٰ ج۲ ص۱۱۹) پر آپ کی شان میں لکھا ہے کہ: ’’میں تو بس قرآن ہی کی طرح ہوں اور قریب ہے کہ میرے ہاتھ سے یہ ظاہر ہوگا جو کچھ کہ قرآن سے ظاہر ہوا۔‘‘
آپ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔ ارشاد ہوتا ہے ؎
آں چہ من بشنوم زوحی خدا
بخدا پاک دانمش زخطا
ہم چو قرآں منزہ اش دانم
از خطاہا ہمین ست ایمانم
آں یقینے کہ بود عیسیٰ را
بر کلامے کہ شدبروا لقا
واں یقین کلیم برتو رات
واں یقیں ہائے سید السادات
کم نیم زاں ہمہ بروئے یقینہر کہ گوید دروغ ہست لعین
(نزول المسیح ص۱۰۰، خزائن ج۱۸ ص۴۷۸)