خطبات دعوت ۔ مجموعہ بیانات ۔ حضرت مولانا احمد لاٹ صاحب |
|
اس کی افادیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس محنت کی اہمیت کہ پہلے دن سے بتاتا ہوا آرہا ہوں …مکی زندگی کے تیرہ سال اس محنت کو کیا گیا ، اور یہ بتا دیا گیا کہ جو کام ذمہ کئے جارہا ہے… ، جو محنت کی ذمہ داری دی جارہی ہے، اسے ہر حال میں کرنا ہے ۔ راستہ میں کانٹے بچھائے جائیں تو بھی ذمہ داری پوری کی جائے گی … گلے میں پھانسہ ڈالا جائے تو بھی ذمہ داری پوری کی جائے گی …… اونٹ کی اوجھ ڈالی جائے تو بھی پوری کی جائے گی………… امت کی تعلیم فرمائی ہے کہ جس ذمہ داری کو میں لے کر آیا ہوں اس ذمہ داری کو ہر قیمت پر پوری کی جائے گی دعوت کی اہمیت بتلائی ، ایسا نہیں کہ ہوگیا ہوگیا ٹھیک ہے … آج نہیں ہوا تو کل کرلیں گے …اس ہفتہ نہیں تو اگلے ہفتہ … بلکہ پورے اہتمام کے ساتھ ……اور اہتمام آدمی اس کا کرتا ہے جس کو اہمیت دیتا ہے ، جس دکان کو … جس ملازمت کو … جس دفتر کو جس آفس کو… جس شعبہ کو … جس کارخانہ کو جس کو جتنی اہمیت دیتا ہے اس کا اتنا اہتمام کرتا ہے ۔ یوں کہ اپنی ذمہ داری کو ہم اہمیت دیں کہ ہم سب سے پہلے اللہ کے بندے ہیں بندگی کے ناطے بڑی ذمہ داری ہے ، نبی کا امتی ہوں ، نبی کا نائب ہوں ، امتی ہونے کے ناطے آپ کے کام کو اپنا کام بنانا یہ میری ذمہ داری ہے ، اور جب اس کو اہمیت دیں گے تو پھر اس کے لئے اہتمام ہوگا ، اور جس کے لئے آدمی اہتمام کرتا ہے ، اس کے لئے قربانی دیتا ہے ، ہر طرح کی …کبھی جان کی …کبھی مال کی … وقت کی … جذبات کی … خیالات کی … فکروں کی… سوچ کی … مختلف شکلوں کی … کہ اب جب اہتمام ہے تو اس کے