مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
انگریزی وغیرہ کے لیے تو تُو نے اُن کو وقف کردیا تھا، ہمارے باغیوں کی زبان و علم سے اتنا تعلق اور اتنا انہماک تھا اور ہمارے قرآن شریف کو صحیح پڑھنے کی بھی فکر نہ تھی۔ بتلا اس غفلت و کوتاہی کا کیا جواب ہے؟ اسی طرح معاملات معاشرت کے بارے میں باز پُرس ہوگی کہ تجارت کس طرح کرتے تھے؟سودسے، جوئے سے، رشوت سے کیوں نہیں پرہیز کیا تھا؟ تصویر بنانے یا کھینچنے یا گانے بجانے سے کیوں نہ بچتے تھے؟ اور خلافِ شریعت چیزوں کی تجارت کیوں کرتے تھے؟فصل یعنی آم وغیرہ قابلِ انتفاع ہونے سے قبل کیوں خرید و فروخت باغات کی کیا کرتے تھے؟ کیا تم کو بتلایا نہ گیا تھا کہ ایسا کرنا حرام و ناجائز ہے! نکاح و طلاق کے بارے میں ہمارے حکموں کی پابندی کیوں نہ کی تھی تو اس کا کیا جواب ہے؟اسی طرح اگر یہ سوال ہوا کہ وضع و لباس میں ہمارے نافرمانوں، کافروں، مشرکوں کا کیوں اتباع کرتے تھے، کیا ہماری پسند کی وضع و لباس میں کوئی نقص یا کمی تھی؟ اے نالائق! تو نے ہماری وضع و لباس کو کیوں حقیر اور بُرا جانا اب بتلا اس کا کیا جواب ہے؟ ان سوالوں کا جواب ابھی سے سوچنا چاہیے۔ اسی طرح اگر اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا، تُوہمارے بندوں کو کیوں ذلیل سمجھتا تھا؟ اور میری رضا و خوشنودی کو چھوڑ کر مخلوق کی رضا و خوشنودی کے پیچھے کیوں پڑتا تھا؟ کیا تجھ کو معلوم نہیں تھا اور کیا میرے رسولِ پاک(محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے تجھ کو بتلایا نہ تھا کہ جن کاموں میں میری رضا و خوشنودی کے ساتھ مخلوق کی رضا و خوشنودی شامل کی جاوے گی اس عمل کا صلہ میرے یہاں کچھ نہ ملے گا بلکہ ایسے شخص کو سخت سزا دی جاوے گی۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیوں بھیجا گیا تھا تو ایسے سوالوں کا ہم کیا جواب دے سکتے ہیں؟ نیز یہ کہ عقائد جو سب سے اہم ہیں،اُن کے بارے میں باز پُرس ہوگی کہ تو مخلوق کو کیوں حاجت روا سمجھ کر اُن کے ساتھ وہ معاملہ کرتا تھا جو میرے ساتھ کرنا تھا؟ اور نفع و نقصان کو مخلوق کے قبضےمیں سمجھ کر اُن کی خوشامد و چاپلوسی میں لگا رہتا تھا۔ اور میرے دربار میں کچھ عرض معروض نہ کرتا تھا۔ اولاد، رزق، کاروبار کی ترقی وغیرہ کو میرے بندوں کے اختیار میں سمجھ کر سب