مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
۱۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرے۔ اس کے لیے کسی تعدادو وقت کی قید نہیں۔ چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے جس طرح جتنا بے تکلف بن پڑے ذکر کرتا رہے۔ درود شریف،کلمۂ طیبہ سُبْحَانَ اللہِ یا اَلْحَمْدُ لِلہِ یا اللہُ اَکْبَرُ یا خالی اللہ اللہجو جی چاہے پڑھے اور نیت یہ رکھے کہ اس سے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ترقی ہو۔ ۲۔ کسی خاص وقت میں مثلاً نمازِ فجر کے وقت ایک تسبیح کلمۂ طیبہ کی، ایک تسبیح درود شریف کی اور ایک تسبیح استغفار یعنی اَسْتَغْفِرُاللہْ کی اسی نیت سے پڑھے۔ یہ مقدار کم از کم ہے، جی چاہنے پر وقتی یا دوامی طور پر جتنا چاہے اضافہ کرلیں۔ ہدایت:ذکر اللہ خواہ آہستہ کرے خواہ معمولی آواز سے۔ آواز سے ذکر کرنے میں بعض مصالح ہیں۔ البتہ آواز سے ذکر کرکے جائز ہونے کی شرط یہ ہے کہ کسی سونے والے کی آنکھ نہ کھل جائے اور کسی نماز پڑھنے والے کو تشویش اس سے نہ ہو۔ ۳۔ جو بھی دینی کام کرے مثلاً: سلام، مصافحہ، وضو، نماز، تلاوت، روزہ، صدقہ، خیرات اس میں نیت یہی رہے کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت پیدا ہو۔ ۴۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات سوچے، کہ اس نے ہم کو پیدا کیا اور انسان بنایا پھر مسلمان یعنی سرکاری آدمی بنایا۔ ہم کو مسلمان بنانے کے لیے کئی پشتوں کو ایمان سے مشرف کیا۔پھر اُس نے احباب ، اعزا، اولاد، عافیت، صحت، دولت جیسی بیش بہا نعمتیں مرحمت فرمائیں ۔ایسے محسن کے خوش کرنے کی فکر نہ کرنا بلکہ اُلٹے اس کے احکام کے خلاف کرنا کتنی بڑی نالائقی و نمک حرامی ہے (اس کو دس منٹ تک سوچا کرے۔) ۵۔ یہ سوچے کہ ہم کو مرنا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے، اس کی ہم نے کیا تیاری کی ہے کہ یہ پیشی کا وقت سب سے آخری پیشی کا دن ہے اور فیصلے کا دن بھی ہے پھر اس کے بعد یا راحت کی جگہ ہے یعنی جنت، یا ناقابلِ برداشت تکلیفوں اور مصیبتوں کا سامنا یعنی جہنم کا داخلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ بچاوے اپنے فضل سے۔ وہاں نمازوں کا حساب دینا ہوگا۔ مال تھا توزکوٰۃ و حج کا بھی حساب ہوگا اور پوچھ گچھ ہوگی کہ اپنے بچوں کو قرآن شریف اور ہمارے قانون کی تعلیم کیوں نہ دی تھی؟