مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
بعد اگر نہ مانے اور قدرت ہو تو اس قدرت کو کام میں لائے؎ ورنہ اعراض کرے اور دعا۔(اصلاحِ انقلاب) ۱۹) مستحبات میں مطلقاً نرمی ہے۔اس میں سختی حدود سے تجاوز ہے۔ ۲۰) اسی طرح جو اپنا تابع نہیں ہے اس پر بھی سختی مناسب نہیں۔ (حقوق العلم) ۲۱) دین سکھانے یا وعظ کہنے کے وقت اپنے کو مثل اُس مہتر اور چمار کے سمجھنا جو سرکاری حکم کا اعلان کرتا ہے اور جن کو فہمایش کررہا ہے ان کو اپنے سے افضل و برتر سمجھنا۔ ۲۲) فہمایش و تبلیغ کے بعد عمل کا انتظار نہ کرنا،بلکہ اپنے کو مثل ڈاکیہ کے خیال کرنا جس کا کام سلیقے سے پیغام پہنچانا ہے۔ ۲۳) اپنی بات منوانے کی فکر نہ کرنا۔ ۲۴) لوگوں کے نفع و اثر قبول نہ کرنے میں زیادہ رنجیدہ نہ ہونا کہ یہ ترکِ نصیحت اور یاس کا سبب بن جاتا ہے۔ معمولی رنج میں مضایقہ نہیں بلکہ مقتضائے شفقت ہے۔ نَبَّہَ عَلَیْہِ الْمُجَدِّدُ الْاَعْظَمُ اَلشَّیْخُ التَّھانْوِیُّ نَوَّرَاللہُ مَرْقَدَہٗ۔ ۲۵) تبلیغ یا خدمتِ دین کا اصل ثمرہ نجاتِ آخرت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو سمجھے اور اس کے اثر و نفع کو مقصود نہ جانے، اگر کسی جگہ نفع محسوس نہ ہو یا کم ہو تو اس سے بددل نہ ہو کیوں کہ اپنا کام سعی و کوشش کرنا ہے دوسروں کا ماننا اپنے اختیار میں نہیں،اور غیر اختیاری باتوں کے پیچھے پڑنا اپنے کو تشویش میں ڈالنا ہے۔ اجر و ثواب محض اس سعی وکوشش پر ہے جو اخلاص سے ہو۔اس بات میں جتنی پختگی ہوگی اتنی ہی سعی و کوشش میں مضبوطی ودوام ہوگا۔(اشرف النصائح) ۲۶) تبلیغ ووعظ کے وقت اور اس کے قبل و بعد یہ خیال رکھا کرے کہ یہ اللہ تعالیٰ کابڑا انعام ہے کہ اس نے اس خدمت کی توفیق عطا فرمائی جس میں خود میری فلاح و بھلائی ہے،ورنہ میں اس قابل کہاں تھا کہ اس خدمت کو انجام دیتا۔اس بات کو اتنا ------------------------------