مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
غایت تکرم و استحیاء متکلم کا اور غایت کرامت مخاطب کی ہے رو در رو اس امر کی نسبت نہیں فرمائی) اور (آگے خطاب کا صیغہ بطورِ التفات کے اس لیے اختیار کیا کہ شبہ اعراض کا نہ ہو اور مضمون بھی سابق سے اہون ہے پس ارشاد ہوتا ہے کہ) آپ کو کیا خبر شاید وہ (نابینا آپ کی تعلیم سے پورے طورپر) سنور جاتا (اقل درجہ کسی خاص امر میں نصیحت قبول کرتا) سو اس کو نصیحت کرنا (کچھ نہ کچھ) فائدہ پہنچاتا (مطلب یہ کہ اس کی پوری اصلاح ہوئی بہرحال نفع ہی ہوتا اور ہر چند کہ ’ذکری‘ مقدم ہے تذکر پر مگر نفعِ ذکری مؤخر ہے ’تذکر‘ یعنی قبولِ موعظت سے،اس لیے کلمۂ فاداخل ہوا اور لعل مبالغہ کے لیے فرمایا اس صحابی کی حالت سے اگر ظن تزکی یا تذکر بھی ہوتا تب بھی اس سے بے توجہی نہ چاہیے تھی چہ جائیکہ نفع متیقن ہو اور اعمیٰ سے تعبیر کرنا اشارہ ہے مقتضی توجہ عطوفت کی طرف) تو جو شخص (دین سے) بے پروائی کرتا ہے آپ اس کی تو فکر میں پڑتے ہیں حالاں کہ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے (وصف استغناسے آپ کو اس سے تنفیردلانا ہے) اور جو شخص آپ کے پاس (دین کے شوق میں) دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ (خدا سے) ڈرتا ہے آپ اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں (ان آیات میں آپ کی اجتہادی لغزش پر آپ کو مطلع کیا گیا ہے۔ منشاء اس اجتہاد کا یہ تھا کہ یہ امر تو متیقن اور ثابت ہے کہ اہم مقدم ہوتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفر کی اشدیت کو موجبِ اہمیت سمجھا جیسے دو بیماروں میں ایک کو ہیضہ اور دوسرے کو ز کام ہے تو صاحبِ ہیضہ کا علاج مقدم ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا حاصل یہ ہے، اشتدادِ مرض اس وقت موجبِ اہمیت ہے جب مریض علاج کا مخالف نہ ہو ورنہ طالبِ علاج ہونا موجبِ اقدمیت ہوگا گو مرض خفیف ہو۔ آگے ان مشرکین کی طرف اس قدر توجہ ضروری نہ ہونے کو ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ آیندہ) ہر گز ایسا نہ کیجیے (کیوں کہ ) قرآن (محض ایک) نصیحت کی چیز ہے (اور آپ کے ذمہ صرف اُس کی تبلیغ ہے) سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے (اور جو قبول نہ کرے وہ جانے، آپ کا کوئی ضرر نہیں۔ پھر آپ اس قدر اہتمام کیوں فرماتے ہیں)۔ (بیان القرآن)