مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
اَوۡ یَذَّکَّرُ فَتَنۡفَعَہُ الذِّکۡرٰی ؕ﴿۴﴾اَمَّا مَنِ اسۡتَغۡنٰی ۙ﴿۵﴾فَاَنۡتَ لَہٗ تَصَدّٰی ؕ﴿۶﴾ وَ مَا عَلَیۡکَ اَلَّا یَزَّکّٰی ؕ﴿۷﴾وَ اَمَّا مَنۡ جَآءَکَ یَسۡعٰی ۙ﴿۸﴾وَ ہُوَ یَخۡشٰی ۙ﴿۹﴾ فَاَنۡتَ عَنۡہُ تَلَہّٰی ﴿ۚ۱۰﴾کَلَّاۤ اِنَّہَا تَذۡکِرَۃٌ ﴿ۚ۱۱﴾فَمَنۡ شَآءَ ذَکَرَہٗ ؎ پیغمبر چیں بجبیں ہوگئے اور متوجہ نہ ہوئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیا اور آپ کو کیا خبر شاید وہ سنور جاتا یا نصیحت قبول کرتا، سو اس کو نصیحت کرنا فائدہ پہنچاتا تو جو شخص بے پروائی کرتا ہے آپ اس کی تو فکر میں پڑتے ہیں حالاں کہ آپ پر کوئی الزام نہیں کہ وہ نہ سنورے اور جو شخص آپ کے پاس دوڑتا ہوا آتا ہے اور وہ ڈرتا ہے آپ اُس سے بے اعتنائی کرتے ہیں ہر گز ایسا نہ کیجیے۔قرآن نصیحت کی چیز ہے سو جس کا جی چاہے اس کو قبول کرے۔ فائدہ:چوں کہ اس کی تفسیر بہت سے اہم مضامین پرمشتمل ہے اس لیےنقل کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔چناں چہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: شانِ نزول یہ ہے: (شانِ نزول ان آیات کا یہ ہے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بعض رؤ سائے مشرکین کو سمجھارہے تھے کہ اتنے میں عبداللہ ابنِ امِ مکتوم نابینا صحابی حاضر ہوئے اور کچھ پوچھا یہ قطع کلام آپ کو ناگوار ہوا اور آپ نے ان کی طرف التفات نہیں کیا اور بعض روایات میں بعضوں کے نام بھی آئے ہیں۔ ابوجہل بن ہشام و عتبہ بن ربیعہ و ابی بن خلف وامیہ ابنِ خلف وشیبہ اور ناگواری کی وجہ سے آپ چیں بجبیں ہوئے جب اس مجلس سے اُٹھ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر جانے لگے آثار وحی کے نمودار ہوئے اور یہ آیتیں عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤی الخ نازل ہوئیں اس کے بعد جب وہ آپ کے پاس آتے آپ بڑی خاطر کرتے۔ہٰذِہِ الرِّوَایَاتُ کُلُّہَافِی الدُّرِّالْمَنْثُوْرِغرض واقعۂمذکورہ کے متعلق ارشاد ہوتا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم چیں بجبیں ہوگئے اور متوجہ نہ ہوئے اس بات سے کہ ان کے پاس اندھا آیا (یہاں تو غائب کے صیغے سے فرمایا اور یہ ------------------------------