مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
کیوں کہ علم فضل ہے اللہ تعالیٰ کا اور فضل اللہ تعالیٰ کا عاصی کوعطا نہیں ؎ شَکَوْتُ اِلٰی وَکِیْعٍ سُوْءَ حِفْظِیْ فَاَوْصَانِیْ اِلٰی تَرْکِ الْمَعَاصِیْ فَاِنَّ الْعِلْمَ فَضْلٌ مِّنْ اِلٰہٖ وَفَضْلُ اللہِ لَایُعْطٰی لِعَاصِیْ ؎ اورگناہوں کے ترک کے متعلق یوں سمجھ لے کہ اگر میں نے گناہ کیا تو علم سے محروم رہوں گا اور صحت و عافیت سے محروم ہوجاؤں گا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے پردہ دری کردی نعوذباللہ من ذالک! تو مدرسے سے خارج کردیا جاؤں گا۔ لوگوں میں ذلت و رسوائی ہوگی ۔منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گا۔ اور یوں سمجھ لے کہ آدمی کی موت و بیماری کا کوئی وقت نہیں،جب ہی مرجاوے یا بیمار ہوجائے۔ اور بیمار ہوکر اور مر کر تو (گناہ) چھوڑنا ہی پڑے گا۔ تو جو چیز مر کر یا بیمار پڑ کر چھوٹنے والی ہو اسے صحت و حیات ہی میں چھوڑ دینا چاہیے، تاکہ تارک المعصیت ہو متروک المعصیت نہ ہو اور قابلِ اجر و مدح تارک ہے نہ کہ متروک ۔اور یہ ٹھان لے کہ میں شہوت کے کہنے پر عمل نہ کروں گا۔ نہ دیکھوں گا نہ بات کروں گا اور نہ بات سنوں گا اور لڑکوں اور عورتوں کی صحبت سے بہت سخت پرہیز کرے اگر کسی لڑکے کے ساتھ پڑھنے میں یا سبق کی تکرار میں یا دور میں ہو تو قدرِ ضرورت پر اکتفا کرے، اور اگر اپنی طبیعت میں بُرا میلان پاوے تو فوراً بہت جلد اس کا ساتھ چھوڑ دے اور تکرار وغیرہ سب بند کردے، علیحدہ پڑھے اور جلد سے جلد دو رکعت نمازِ توبہ پڑھ کر توبہ کرے، کیوں کہ اگر علیحدہ ہونے میں تاخیر کرے گا تعلق کی جڑ مضبوط ہوجاوے گی اور علیحدہ ہونے کی ہمت کمزور ہوجاوے گی اور پھر گناہ سے بچنا مشکل ہوجاوے گا۔ اور اگر اللہ تعالیٰ نے بعد مدت کے کبھی دستگیری بھی کی اور توبہ نصیب بھی ہوئی تب بھی برسو ں اس کے خیالات اور وساوس نماز و کتاب کو خراب کریں گے اور سخت اُلجھن ہوجاوے گی۔ دل پریشان و متردّد و ------------------------------