مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
گا۔ اورکفِ افسوس مَلنا پڑے گا۔ ۲) جس سے نفعِ دینی یا دنیوی حاصل کرنا چاہے اس کے سامنے اپنے کو مٹادے۔ یعنی اپنی شان و شیخی و پٹھانی طاق پر رکھ دے۔ اور ا دب اور اطاعت اور خدمت اپنا شعار بنالے۔ اشتیاق سے پڑھے اور پڑھا ہوا خوب یاد رکھے۔ ان باتوں سے ان شاء اللہ تعالیٰ استاد ایسا مہربان و خوش ہوگا کہ پچاس روپے کے دینے سے بھی اتنا مہربان و خوش نہ ہوتا۔ ۳) غلطی اگر کلام یا کام میں ہوجائے فوراً اپنی غلطی کا اقرار کرلے باتیں نہ بناوے، کیوں کہ یہ تکبر کی بات ہے۔ ۴) جس سے پڑھے اس کی محبت، اطاعت اور ادب کا بہت پاس رکھے۔ اس سے بڑا نفع ہوگا۔ ۵) ساتھ یاد کرنے میں ہمت اور شوق میں ترقی ہوتی ہے۔ ۶) علم پر ناز نہ کرے بلکہ نعمت سمجھ کر شکریہ ادا کرتا رہے۔ ورنہ نعمت چھن جائے گی۔ ایک عالم کا دماغ فالج سے خراب ہوگیا اور کُل علم بھول گیا۔ ۷) طلباء کو چاہیے کہ اللہ والے بن کر رہیں۔ تمام چیزیں اس کی بن کر رہیں گی۔ اگر اللہ تعالیٰ سے پھر گیا تو سب چیزیں پھر جائیں گی ؎ چوں ازو گشتی ہَمہ چیز از تو گشت ۸) طالبِ علم کو عموماً اور طالبِ دین کو خصوصاً سب گناہوں سے عموماً اور شہوت کے گناہوں سے خصوصاً سخت پرہیز کرنا چاہیے۔ کیوں کہ گناہوں سے تمام اعضا عموماً دل و دماغ خصوصاً بہت ضعیف ہوجاتے ہیں۔ اور حسن بھی جاتا رہتا ہے۔ اور چہرہ بدنما پیلا ہوجاتا ہے۔ دیکھنے میں خراب معلوم ہوتا ہے۔ دل بوجہ تردّد اور خوف کے اور دماغ بوجہ مادّۂ منی کے نکل جانے کے۔کیوں کہ سرمایۂ راحت و صحت و قوت منی ہی ہے۔ اور طالبِ علم کو زیادہ ضرورت ان ہی اعضاکے درست رہنے کی ہے۔ کیوں کہ اگر یہ اعضا ضعیف ہوگئے تو نہ پڑھ سکے گا اور نہ پڑھا ہوا یادرکھ سکے گا۔ کیوں کہ قوتِ حافظہ بھی جاتی رہتی ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے استاد (حضرت وکیع رحمۃ اللہ علیہ) سے سوءِ حفظ کی شکایت کی انہوں نے فرمایا: گناہوں سے پرہیز کرو،