مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
بھی داعیہ ہوا اور توکلًا علی اللہ تعالیٰ اس رسالے کو مرتب کرنے بیٹھ گیا۔اس رسالے میں بہت بڑی اعانت و مدد ’’دعوۃ التبلیغ‘‘ مولفۂ استادِ محترم حضرت مولانا جمیل احمد صاحب تھانوی سابق مدرّس مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور سے لی گئی ہے۔ اکثر عنوانات واکثر احادیث معہ ترجمہ اسی سے ماخوذ ہیں۔ اور ’’احکامِ تبلیغ ‘‘کے متعلق استادِ محترم حضرت مولانا محمود حسن صاحب مفتی جامع العلوم کانپور کی تحریرِ گرامی سے بہت مدد ملی ہے۔اتحاف سادات المتقین شرح احیاء علوم الدینکی عبارت حضرت موصوف نے نقل کرکے روانہ فرمائی تھی مع دیگر افادات کے۔ یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اس رسالے کی ترتیب بڑی عجلت سے کی گئی ہے اور بیک وقت تقریباً ہر باب کا کام شروع کیا گیا۔اسی وجہ سے جس قدر اختصار کا خیال تھا وہ نہ ہوسکا۔ لکھتے وقت اُمورِ مفیدہ کے اضافے کا تقاضا ہوتا تھا ،پھر یہ بھی خیال ہوا کہ اختصار آیندہ حسبِ ضرورت کیا جاسکتا ہے، اور چوں کہ اس رسالے کی تسوید کے ساتھ تبییض بھی ہوتی رہی ہے محوو اثبات بھی دِقّت سے خالی نہ تھا بوجوہ اشاعت کا تقاضا الگ تھا،بہرحال عرض ہے کہ اس رسالے میں جو فرو گزاشت نظر آوے اس سے اس ناکارہ کو مطلع فرماکر ممنون فرماویں تاکہ اس کی اصلاح کردی جاوے۔ اور عرض ہے کہ اس رسالے کی تبییض میں عزیزِ محترم مولوی عبدالغنی سلمہٗ و حافظ عبدالحمید سلمہٗ و حافظ سعید الظفر سلمہٗ و جناب مولوی بشارت علی صاحب زید لطفہ نے بہت مدد کی ہے،اور سب سے زیادہ اوّل الذکر عزیز نے۔ ان سب کے لیے اور اس ناکارہ اور ان سب کے والدین، اساتذہ و مشایخ و احباب کے لیے دعائے مغفرت کی درخواست ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو قبول فرماکر سب کے لیے ذریعۂ نجات بناویں۔وَ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیۡزٍ ناکارہ خادم ابرارالحق خادمِ مدرسہ اشرف المدارس ہردوئی ۱۵جمادی الثانی ۱۳۷۳ھ، یومِ شنبہ