مجالس ابرار |
§ہم نوٹ : |
|
کو چھوڑا،اور تعلیم میں اور تربیت میں کیا کیا کوتاہیاں ہوئیں اور کیا کیا سرانجام ہوئیں۔مرضیاتِ خداوندی کے بجا لانے پر تہہ دل سے شکریہ ادا کرے تاکہ موافق وعدہ ٔ خداوندی لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ؎ اور ترقی ہو۔ اور ارتکابِ معاصی پر دل سے توبہ و استغفار کرے تاکہ بشارت یعنی طُوْبٰی لِمَنْ وَّجَدَ فِیْ صَحِیْفَتِہِ اسْتِغْفَارًا کَثِیْرًا ؎ میں داخل ہو۔ اور کوتاہیوں کے دفع کرنے کی دل و جان سے کوشش کرے اور اللہ تعالیٰ سے بصد عاجزی والحاح التجا کرے کہ مرضیات بجا لانے کی توفیق عنایت فرمائیں اور نامرضیات سے اجتناب نصیب فرمائیں۔ اور اسی پر عمر بھر رکھیں اور اسی پر خاتمہ فرمائیں۔وَ مَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیۡزٍ؎ خلاصہ یہ ہے کہ کچھ دیر تک ضرور خلوت اختیار کرے اور مذکورہ بالا کاموں کو بجا لائے تاکہ نورِ باطن نصیب ہو اور بہت سی آفتوں سے نجات ہو ؎ ہیچ آفت نہ رسد گوشۂ تنہائی را قعر چہ بگز ید ہر کو عاقل ست زانکہ در خلوت صفا ہائی دل ست اور جناب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا خلوت اختیار کرنے کا حالاں کہ آپ معصوم تھے۔ ہم لوگ تو سرسے پیر تک گناہ ہی گناہ میں بھرے ہوئے ہیں۔ ہم لوگوں کے لیے تو خلوت اور ضروری ہوگی۔ چناں چہ ارشاِد خداوندی فَاِذَا فَرَغۡتَ فَانۡصَبۡ، وَاِلٰی رَبِّکَ فَارۡغَبۡ؎ سے ظاہر ہے ۔جیسے ربڑ وغیرہ میں پھونک مار کر ہوا بھرتے ہیں اسی طرح ذوق و شوق، وجد، شکر، ہمت سے پر کردیتی ہے ۔ کرکے دیکھو ؎ اے تو نا رستہ زمانے از رباط تو چہ دانی صحو و سکر و انبساط ------------------------------