مجالس ابرار |
ہم نوٹ : |
|
حدیث میں آیا ہے کہ دنیا کی محبت سارےگناہوں کی جڑ ہے۔؎ جب یہ ایسی بُری چیز ہے تو ہر مسلمان کو کوشش کرنا چاہیے کہ اس بلا سے بچے اور اپنے دل سے اس دنیا کی محبت باہر کرے۔ سو علاج اس کا ایک تو یہ ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرے اور ہر وقت سوچے کہ یہ سب سامان ایک دن چھوڑنا ہے پھر اس میں جی لگانا کیا فائدہ۔ بلکہ جس قدر زیادہ جی لگے گا اسی قدر چھوڑتے وقت حسرت ہوگی۔دوسرے بہت سے علاقے نہ بڑھائیے یعنی بہت سے آدمیوں سے میل جول نہ بڑھائیے۔ ضرورت سے زیادہ سامان چیز مکان جائیداد جمع نہ کرے۔ کاروبار، روزگار، تجارت حد سے زیادہ نہ پھیلائیے۔ ان چیزوں کو ضرورت اور آرام تک رکھے۔ غرض سب سامان مختصر رکھے۔تیسرے فضول خرچی نہ کرے، کیوں کہ فضول خرچی کرنے سے آمدنی کی حرص بڑھتی ہے اور اس کی حرص سے سب خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔چوتھے موٹے کھانے، کپڑے کی عادت رکھے۔پانچویں غریبوں میں زیادہ بیٹھے،امیروں سے بہت کم ملے۔ کیوں کہ امیروں سے ملنے میں ہر چیز کی ہوس پیدا ہوتی ہے۔چھٹے جن بزرگوں نے دنیا چھوڑ دی ہے ان کے قصے حکایتیں دیکھا کرے۔ساتویں جس چیز سے دل کو زیادہ لگاؤ ہو اس کو خیرات کردے یا بیچ ڈالے۔ ان شاء اللہ ان تدبیروں سے دنیا کی محبت دل سے نکل جائے گی، اور دل میں جو دور دور کی اُمنگیں پیدا ہوتی ہیں کہ یوں جمع کریں، یوں سامان خریدیں، یوں اولاد کے لیے مکان اور گاؤں چھوڑ جائیں جب دنیا کی محبت جاتی رہے گی یہ اُمنگیں خود دفع ہوجائیں گی۔ (بہشتی زیور حصہ ۷) تشریح نمبر9:اساتذہ و منتظمین کا ادب و احترام نہ کرنا اور ان کو اپنا محسن نہ سمجھنا۔ آج علم میں بے برکتی کا بڑا سبب اساتذہ کا ادب و احترام نہ کرنا ہے اور تفسیر اور حدیث کی کتابوں کا ادب نہ کرنا ہے۔عموماً طلباء انگریزی اسکول کے لڑکوں کی طرح دینی کتب کو ہاتھ میں لے کر نیچے لٹکائے ہوئے ہلاتے ہوئے چلتے ہیں جس سے دینی کتابیں کبھی آگے کبھی پیچھے ہوجاتی ہیں اور بعض تو چار پائی کے سرہانے بیٹھے ہوئے اور پائنتی کتابوں کو رکھتے ------------------------------