احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
ولا خیر فی دعویٰ اذا لم یکن لہا علی الصّدق من ربّ السّماء الدّلائل ۸۴… اور اس دعوے میں کوئی بھلائی نہیں۔ جس کی سچائی پر آسمان کے پروردگار کی طرف سے دلائل موجود نہ ہوں۔ اذا افتخر الکردیّ یوماً بما لغیٰ فہاک قطوف من عراب یہازل ۸۵… اگر کوئی ’’کردی‘‘ کسی دن اپنی کسی بیہودہ بات پر اظہار فخر کرے تو ایک سست رفتار سواری ضرور اس کا مذاق اڑائے گی۔ ونحن اناس لا نجرّد بیضنا اذا ما امنّا الحیف ممّن یعادل ۸۶… ہم تو ایسے لوگ ہیں جو اپنے انڈوں کو بھی برہنہ نہیں کرتے۔ جب ہمیں ایسے لوگوں سے ظلم وجور کا اندیشہ ہو جو انصاف کرنے والے ہیں۔ ولکننا اسد اللّقاء لدی الوغیٰ اذ انطق العوراء خصم محاول ۸۷… لیکن ہم تو جنگ کے وقت لڑائی کے شیر ہیں، جب حیلہ باز دشمن فحش گوئی اختیار کرے۔ ولولا ضیاع العمر فیما یعیبنا لسارت مطایا الشعر منّا تجاول ۸۸… اگر ان باتوں میں جن کے بارے میں وہ ہم پر عیب لگاتا ہے، عمر کا ضیاع نہ ہوتا تو ہماری شعروں کی سواریاں… ایک دوسرے سے سبقت لے جارہی ہوتیں۔ ونحن نجیب الشّعر یوماً اذا دعا فنمضی کسیف والغبیّ یثاقل ۸۹… جب کسی دن شعر بنانے کی ضرورت آپڑے تو ہم شعر بنانے میں تلوار کی طرح گزر جاتے ہیں۔ جب کہ کند ذہن شخص پر شعر کہنا گراں ہوتا ہے۔ ولیس القطامثل القطیّ اذا ہما تطایر فی جوّ السماء تعاجل ۹۰… اور قطا پرندہ، قطی پرندے کی طرح نہیں ہے۔ جب کہ وہ آسمان کی کھلی فضا میں تیز اڑان میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوں۔ (قطاء ایک تیز رفتار پرندہ ہے اور قطی سست رفتار پرندے کا نام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرزا ایک عام مسلمان عالم سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا) فہل یدّعی الاٰداب من لیس عندہ من العلم مالا بالہباء نکایل ۹۱… تو کیا وہ شخص ادب آداب کا دعویٰ کرتا ہے جس کے پاس وہ علم بھی نہیں ہے جس کا گردوغبار سے بھی موازنہ کیا جاسکے۔