احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
کارکردگی کی چند تنخواہات جو سکول میں زیر امانت تھیں واپس داخل خزانہ کردیں۔ اس پر مجھے سخت صدمہ ہوا اور میں بے روزگار ہونے پر بے حد پریشان ہوا اور بحالی ملازمت کے لئے ضلعی دفتر تعلیم میں پہنچا اور خان صاحب موصوف کو السلام علیکم کہا۔ اس نے جواب سلام نہ دیا اور خاموش بیٹھا رہا۔کیونکہ میں نے اسے ایک وقت میں اپنی کتاب کا ابتدائی حصہ دکھایا تھا اور وہ اسے دیکھ کر چیں بجبیں اور لال پیلا ہوگیا تھا اور آئندہ کے لئے مجھ سے سلام وکلام اور علیک سلیک بند کر دی تھی۔ میں پاس پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھنے لگا۔ اس نے فوراً مجھے کرسی پر بیٹھنے سے روک دیا اور دفتر سے چلے جانے کو کہا۔ اس پر میرے اور اس کے درمیان تو تو میں میں پر معاملہ آگیا۔ معاً دفتر کے اہل کار اور دفتر میں موجود لوگ جمع ہوگئے اور مجھے باصرار باہر جانے کو کہا گیا۔ میں نے باہر جاتے ہوئے خان صاحب سے کہا کہ اگر آپ نے مجھے کرسی پر بیٹھنے نہیں دیا تو آپ بھی دفتری کرسی پر نہیں بیٹھیں گے۔ میں بحالت افسوس ورنجش اپنے گھر آگیا اور نتیجہ کی انتظار کرنے لگا۔ اس پر خداکا کرنا یہ ہواکہ خان صاحب اسی مہینہ کے اندر اپنی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائر ہوگیا اور دفتر پر بدستور ڈٹے رہنے کی ٹھان لی اور رضاکارانہ طور پر بلاتنخواہ کام کرنے کی محکمہ تعلیم کو پیشکش کر دی۔ مگر محکمہ تعلیم اس پر رضامند نہ ہوا اور اس کو چارج تعلیم کے چھوڑنے کا حکم دیا اور وہ نہ مانا۔ لیکن محکمہ تعلیم نے بذریعہ پولیس اس کو دفتر سے نکالا اور دفتر کا چارج دیگر آدمی کو دیاگیا۔ اسی طرح اس کی زبردست ذلت ہوئی اور وہ رسوا ہوکر اپنے گھر واقع احمد پور شرقیہ چلا گیا۔ پہلے اس کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا اور پھر وہ خود اس صدمہ سے بیمار رہ کر ہلاک ہوگیا اور میرا قلبی صدمہ اس کو کھا گیا۔ پیش گوئی پنجم دربارہ قاضی محمد نذیر وشیخ مبارک احمد مرزائیان میں نے ان دونوں مرزائیان کو غلام احمدی چیلنج لفظ ’’الدجال‘‘ کے متعلق لکھا کہ اگر میں مرزاقادیانی کے اسی چیلنج کو غلط ثابت کر دوں تو کیا آپ صاحبان مجھ کو ایک ہزار روپیہ نقد جو اسی چیلنج کی تغلیط پر مقرر ہے۔ ادا کرو گے یا نہیں؟ انہوں نے جواباً لکھا کہ ہم یہ رقم ضرور بالضرور ادا کریں گے۔ میں نے ان کو بطور ذیل لکھا کہ: مرزاقادیانی کا چیلنج یہ ہے کہ لفظ ’’الدجال‘‘ جو احادیث میں وارد ہے۔ اس سے مراد آنے والا یہودی دجال ہے۔ اب اگر کوئی اہل علم اسی لفظ کااطلاق کسی اور آدمی پر ثابت کر دے تو میں اس کو ایک ہزار روپیہ نقد دوں گا اور میرا یہی بیان مؤکد بالحلف ہے۔ میں نے اسی لفظ کا اطلاق خود مرزاقادیانی پر بطور ذیل ثابت کر کے ان کو بھجوادیا کہ: