احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
جنوری ۱۹۰۰ء عیسوی سے شروع ہوکر دسمبر ۱۹۰۲ء عیسوی تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بندہ کو ان لوگوں کی طرح رد کرے جو تیری نظرمیں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں… میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیساکہ مجھے سمجھا گیا ہے۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۱۷۷،۱۷۸) افسوس مرزاقادیانی نے ناحق ہمیں تین سال تک انتظار میں رکھا۔ دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھیں پتھرا گئیں۔ کان بھی سن ہوگئے۔ مگر کوئی آواز ہمارے کانوں تک نہ آئی کہ فلاں ایسا نشان ظاہر ہوا ہے جس سے مرزاقادیانی اور ان کے مخالفوں کا فیصلہ ہو گیا۔ ہم نے کتاب ہذا (الہامات مرزا) طبع اوّل کے وقت بوجوہ بے خبری کے چند ایک نشان پیش کئے تھے۔ یعنی امیر صاحب والئی کابل کی وفات۔ پریزیڈنٹ امریکہ کی موت یا ملکہ معظمہ قیصر ہند کا انتقال یا بیگم صاحبہ بھوپال کی رحلت مگر افسوس کہ مرزاقادیانی کی پارلیمنٹ الہامیہ نے ان میں سے کسی ایک نشان کو قبول نہ فرمایا۔ بلکہ ایک نئے نشان کی نشاندہی کی فکر میں لگ کر اس پیش گوئی کو بھی سابقہ پیش گوئیوں کی طرح ’’کوہ کندن وکاہ برآوردن‘‘ کا مصداق بنایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔ دس ہزار روپیہ کا اشتہار ’’یہ اشتہار خداتعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کے لئے شائع کیا جاتا ہے جو اور نشانوں کی طرح ایک پیش گوئی کو پورا کرے گا۔ یعنی یہ بھی وہ نشان ہے جس کی نسبت وعدہ تھا کہ وہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ظہور میں آجائے گا۔‘‘ (رسالہ اعجاز احمدی ص۸۸، خزائن ج۱۹ ص۲۰۲) تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موضع مد ضلع امرتسر میں مرزائیوں نے شور وشغب کیا تو ان لوگوں نے لاہور ایک آدمی بھیجا کہ وہاں سے کسی عالم کو لاؤ کہ ان سے مباحثہ کریں۔ اہالی لاہور کے مشورے سے ’’قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند‘‘ ایک تار آیا اور صبح ہوتے ہی جھٹ سے ایک آدمی آپہنچا کہ چلئے، ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف کے لوگ بھی سب کے سب گمراہ ہو جائیں گے۔ خاکسار چار وناچار موضع مذکور میں پہنچا۔ مباحثہ ہوا۔ خیر اس مباحثہ کی روئیداد تو ضمیمہ