احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
گیارہ (۱۱) اعداد سے بعد حذف سینکڑہ جات (۱۳۰۰) کے مرزاقادیانی کے عہد میں سال ۱۳۱۱ھ میں ہونے والے چاند گرہن وسورج گرہن کی طرف رہنمائی ہوتی ہے اور خلاصہ یہ ہے کہ جو غلام احمد قادیانی ختم رسالت کا اور حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کر کے سال ۱۲۹۰ھ کو تحریک مرزائیت کا آغاز کرتا ہے اور سال ۱۳۱۱ھ کے چاند وسورج گرہن کو اپنی صداقت قرار دیتا ہے۔ وہ گمراہ اور ملحد ہے۔ چنانچہ امت موسوی کے یہود نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خاتم الرسل بنادیا اور گمراہ ہوئے اور امت محمدیہ کے یہودی صفت ’’غلام احمد قادیانی‘‘ نے آنحضرتa پر بند شدہ رسالت کی حد کو توڑ کر رسالت کو آگے بہا دیا اور سلسلۂ رسالت کو رواں کر دیا اور خود رسول بن گیا۔
رابعاً… یہ کہ فقرہ ’’الذین یجادلون فی اٰیات اﷲ‘‘ بھی اسی شخص کو آیات اﷲ کے ساتھ جدال وقتال کرنے والا قرار دیتا ہے۔ کیونکہ اوّل تو یوں ہے کہ یہ شخص ختم نبوت اور حیات مسیح کی آیات قرآنیہ کی غلط اور ٹیڑھی تاویلیں کر کے مجادل فی آیات اﷲ بنتا ہے اور دوم یہ کہ عند اﷲ وعند القرآن حضرت مسیح اور اس کی ماں آیات اﷲ ہیں۔ کما قال اﷲ تعالیٰ:
’’وجعلنا ابن مریم وامّہ اٰیۃ (المؤمنون:۵۰)‘‘ {ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو آیۃ اﷲ بنایا۔}
اور یہ شخص ان دونوں آیات اﷲ کو اپنے غلط اور فاحش الزامات کا نشانہ بنا کر صریحاً مجادل فی آیات اﷲ قرار پاتا ہے۔ مذکورہ بالا چاروں وجوہات کی بنا پر آیت زیر بحث کے اندر اسی شخص کے ضلال والحاد کا ایک نمایاں پیش گوئی کے رنگ میں تذکرہ ہوا ہے۔
تنویر صاحب نے میرے اسی سوال کے پہنچنے پر ایک لا یعنی اور غیرمعقول خط بھجوا کر یہ عذر پیش کیا کہ آیت ہذا میں جس گمراہ وملحد شخص کا ذکر ہے وہ غلام احمد پرویز ہے جو احادیث نبویہ کا منکر ہے۔ غلام احمد قادیانی نہیں ہے جو احادیث نبویہ کا قائل وعامل ہے۔
میں نے تنویر صاحب کو واپس جواباً لکھا کہ اوّلاً تو دونوں آدمی احادیث نبویہ کے منکر ہیں۔غلام احمد پرویز تمام احادیث کا اور غلام احمد قادیانی اکثر احادیث کا منکر ہے۔ جیسا کہ میں قبل ازیں بتاچکا ہوں۔
ثانیاً… یہ کہ اوّل الذکر آدمی احادیث کا انکار کر کے اور اسلام میں کمی کر کے مقتر بنتا ہے اور ثانی الذکر ختم نبوت کی حد کو توڑ کر اسلام میں اپنی نبوت اور اپنے الہامات کا اضافہ کر کے مسرف بمعنی حد شکن ہو جاتا ہے اور قرآن مجید نے لفظ مسرف کو اختیار کر کے غلام احمد قادیانی کی تعیین کر دی ہے اور غلام احمد پرویز کو چھوڑ دیا ہے۔