احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
’’یوم ترونہا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حملٍ حملہا (الحج:۲)‘‘ {اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی مادہ اپنے شیرخوار بچے سے غافل ہو جائے گی اور ہر حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی۔}
ثالثاً
یہ ہے کہ مرزاقادیانی کا زیر جواب آیت وحدیث کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان بننے والی ریلوے لائن پر محمول کرنا بھی درست نہیں ہے۔ واقعات نے ثابت کر دیا کہ مرزاقادیانی کے زمانہ میں وہ مکمل نہ ہو پائی۔
عذر چہارم
یہ ہے کہ: ’’مسیح موعود کے وقت میں طاعون پھیلے گی اور حج روکا جائے گا اور ذوالسنین ستارہ نکلے گا اور ساتویں ہزار کے سر پر وہ موعود ظاہر ہوگا اور دمشق کی مشرقی سمت میں اس کا ظہور ہو گا اور صدی کے سر پر اپنے تئیں ظاہر کرے گا۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۲، خزائن ج۱۹ ص۱۰۸)
جواب… یہ ہے کہ طاعون کا پھیلنا علامت دجال تو ہوسکتا ہے۔ علامت مسیح موعود نہیں ہوسکتا۔ جیساکہ حدیث ذیل سے مترشح ہوتا ہے۔ جس میں دجال کے ساتھ طاعون کو ذکر کیاگیا ہے۔
’’علیٰ انقاب المدینۃ ملائکۃ لا یدخلہا الدجال ولا الطاعون‘‘ {مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہوں گے جن کی وجہ سے دجال اور طاعون دونوں مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے۔}
حدیث ہذا میں دجال وطاعون کو یکجا ذکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ طاعون رفیق دجال ہے اور دجال رفیق طاعون ہے۔ کیونکہ ؎
کندہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
اور پھر حدیث ہذا میں مذکور لفظ الدجال سے مراد خود مرزاقادیانی ہے کیونکہ بقول اس کے اس کی پیدائش سال ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں ہوئی۔جیسا کہ لکھا ہے: ’’میری پیدائش ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں سکھوں کے آخری عہد میں ہوئی اور ۱۸۵۷ء میں میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔‘‘ (کتاب البریہ ص۱۴۶، خزائن ج۱۳ ص۱۷۷)
اور اس کی وفات باتفاق اہل مرزا سال ۱۹۰۸ء میں واقع ہوئی۔ بنابرآں اس کی عمر یا