احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
جب یہ کہا جائے گا کہ مسیح ابن مریم سے پہلے تمام رسولان خدا فوت ہوچکے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام وفات یافتہ رسولوں سے مستثنیٰ رہیں گے اور زندہ قرار پائیں گے۔ گویا محمدی آیت مستثنیٰ منہ کے مقام میں ہے اور مسیحی آیت مستثنیٰ کا درجہ رکھتی ہے۔ چنانچہ محمدی آیت نے تمام انبیاء ورسل کو بمع عیسیٰ کے وفات یافتہ بتایا اور مسیحی آیت نے حضرت عیسیٰ کو ان سے بصورت استثناء الگ کر لیا اور زندہ قرار دے دیا۔ جیسے ’’ماجآء نی القوم الّازیداً‘‘ کہہ کر یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ ساری قوم بمعہ زید کے متکلم کے پاس نہیں آئی اور زید نہ آنے والوں میں شامل رہا اور پھر زید کو قوم سے الگ کر کے کہا گیا کہ صرف زید آیا ہے۔ بنابرآں خلاصۃ الکلام یہ رہا کہ جس طرح مثال ہذا میں ساری قوم زید کی نفی کر کے صرف زید کو آنے والا ظاہر کیاگیا ہے۔ اسی طرح دونوں آیات بالا کے ملانے پر پہلے پہل آیت محمدی میں تمام رسل کو وفات یافتہ بنا کر کے آیت مسیحی میں حضرت عیسیٰ کو بطور استثناء کے زندہ ثابت کیاگیا ہے۔ میری تشریح بالا کے بعد قارئین کرام کو یہ بات ہرگز نہ بھولنی چاہئے کہ مرزاقادیانی اور مرزائی صاحبان قرآن مجید کی موجودہ تنظیم وترتیب کو جو اعجاز قرآن کا ایک اہم حصہ ہے۔ بدل کر آیت مسیحی کو پہلے اور آیت محمدی کو پیچھے رکھ لیتے ہیں اور وفات مسیح کو ثابت کر کے عوام وجہال کو مغالطہ دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو قرآن مجید سے وفات مسیح ثابت ہے۔ حالانکہ قرآن کی موجودہ ترتیب کو بدل کر ایک غلط مفہوم نکالنا بھی تحریف قرآن کا ایک حصہ ہے۔ جس کو یہود نما مرزا اور مرزائی صاحبان انجام دیتے ہیں۔ جاننا چاہئے کہ مرزاقادیانی کا یہ مغالطہ قابل افسوس ہے کہ عیسیٰ کے مقیم آسمان ہونے اور آنحضرتa کے زیر خاک جانے سے توہین نبیa نکلتی ہے۔ حالانکہ ایک تنکہ پانی کے اوپر تیرتا ہے اور آبدار موتی پانی کی تہہ میں بیٹھتا ہے۔ کیا اس طرح پر موتی کی قدر ومنزلت گھٹ جاتی ہے اور تنکہ موتی کا مقام حاصل کر لیتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ موتی جہاں بھی ہو بادشاہوں کے تاج پر بیٹھتا ہے اور تنکہ جہاں بھی ہو خاک پر ڈالا جاتا ہے یا جلتی آگ میں جگہ لیتا ہے۔کیونکہ ؎ صدر آنجا کہ نشیند صدر است ’’بادشاہ جہاں بیٹھتا ہے بادشاہ رہتا ہے۔‘‘ عذر ہشدہم یہ ہے کہ: ’’ابوہریرہؓ ایک غبی اور کم فہم صحابی تھا جس نے آیات واحادیث میں سے حیات عیسیٰ کو صحیح سمجھا ہے۔ حالانکہ حیات عیسیٰ قرآن واحادیث سے ثابت نہیں ہے۔‘‘ (اعجاز احمدی ص۱۸، خزائن ج۱۹ ص۱۲۷)