احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
وشعری مثل سیف الجشت حقاً کمقلاۃ وذا فیہا کقال ۵۸۱… سچ مچ میرا شعر سیف چشتیائی کی طرح ایک کڑچھی کی مانند ہے اور اس میں یہ شخص بھننے والے کی طرح ہے۔ وان ہٰذا قلیٰ فی سیف جشتٍ ولٰکن ان قلبی فیہ سال ۵۸۲… اور اگر یہ شخص سیف چشتیائی میں بھن چکا ہے لیکن میرا دل اس میں مطمئن ہے۔ وذا فی سیف جشت غیر سال بقلبٍ بل بقلبٍ فیہ صال ۵۸۳… یہ شخص سیف چشتیائی میں دل سے مطمئن نہیں ہے۔ بلکہ وہ اپنے دل کے ساتھ اس میں جلنے والا ہے۔ وعندی جولر للشیخ وطن بقیٰ من بعدہ فیہ باٰل ۵۸۴… میرے نزدیک گولڑہ شریف شیخ کا وطن ہے جس میں یہی شیخ اس مرزا کے بعد اپنی آل واولاد کے ساتھ زندہ رہا۔ ولٰکن قبل مہرمات مرزا بقیئاتٍ وّسہلات طوال ۵۸۵… لیکن مرزا مہر علی شاہ سے پہلے لمبی قے اور لمبے دستوں سے مر گیا۔ بقی من بعدہ شیخ علیٍ باہلیہ وولدان عوال ۵۸۶… اسی مرزا کے بعد شیخ علی اپنی بالاتر آل واولاد میں باقی رہا۔ وہٰذا الشیخ فینا شمس علمٍ اضوت فینا بنہرو اللیال ۵۸۷… ہمارے اندر یہ شیخ آفتاب علم ہے جو رات دن ہمارے اندر چمکتا رہا۔ غلام الہند وطواط لشمسٍ عمی مثل عمیان البوال ۵۸۸… ہندی غلام دل کے اندھوں کی طرح سورج کے آگے ایک اندھا خفاش ہے۔ کخفاش سعیٰ عن نور شمسٍ الیٰ اہلٍ واٰلٍ فی مغال ۵۸۹… وہ نور آفتاب کو چھوڑ کر خفاش کی طرح غول گاہ کے اندر اپنے اہل وعیال کے پاس بھاگ نکلا۔ سعیٰ فی خلفہ اصوات ہزمٍ ونعرات واصوات السعال ۵۹۰… اس کے پیچھے شکست کی آوازیں اور نعرے اور کھنگورے دوڑ پڑے۔ عدیٰ من خوف مہرٍ ذی علائٍ الیٰ اہلیہ فی دارالعیال ۵۹۱… وہ مہر علی شاہ کے خوف سے اپنے غریب خانہ کے اندر اپنے اہل خانہ کے پاس بھاگ گیا۔ بکیٰ فی اہلہ من نور مہرٍ بدمعاتٍ وزفراتٍ عوال