احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
اس سلسلہ میں مرزاقادیانی نے مولانا اصغر علی روحی کے متعلق جو بدکلامی کی وہ اس کی کتاب (انجام آتھم ص۲۳۸تا۲۴۰) پر موجود ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’اور جن نو آدمیوں کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا ان میں سے ایک حقیر وذلیل وہ آدمی ہے جس کا نام اصغر علی ہے اور وہ اپنے آپ کو بڑا تصور کرتا ہے اور مجھ پر افتراء وترک حیاء کی بناء پر عیب لگاتا ہے اور بھری مجالس ومحافل میں مجھ پر گالم گلوچ کرتا ہے۔ سو عنقریب اسے پتہ چل جائے گا کہ (مجھے) کس طرح حقیر لوگوں میں شمار کرلیا گیا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے۔ ایک قدم بھی تقویٰ کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ خواہشات کی مہروں کو توڑ دے۔ اگرچہ وہ گناہوں سے کیوں نہ ٹوٹیں اور لذتوں کے پھلوں کو چن لے۔ اگرچہ حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کر کے انہیں چنا جائے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے رفقاء اس کے پاس جمع رہتے ہیں اور منافقوں کی صحبت سے تو نفاق ہی بڑھتا ہے اور گھٹیا طبیعتوں میں اور مستحکم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چغل خوری میں اپنے بھائیوں سے آگے نکل گیا ہے اور جس حربہ کے اختیار کرنے سے اس کا شیطان دور ہو سکتا ہے۔ میں نے یہ اختیارکیا کہ اس کا امتحان لوں، سومیں اس کی طرف محاربہ کے متلاشی کی طرح متوجہ ہوا تاکہ جاہل اور فاضل (عالم) کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور لڑائی کے لئے مجھے وہ خود بلا رہا ہے۔ لہٰذا آج اس کی آرزو کو پورا کرنے کے لئے ہم اسے خوش کرتے ہیں۔ جب کہ چند سال قبل بھی میں نے اسے اپنا مخاطب بنایا تھا۔ تاکہ اس کے دل پر آئے ہوئے بادل کو ہٹا دوں۔ سومیں نے اسے کہا کہ میرے پاس ایسے آ، جیسے پانی اور گھاس کا متلاشی (جانور) ہوتا ہے اور ہمارے دسترخوان سے نفع اٹھا، پھر ہم نے اگر تجھے تھوڑے سے برسنے والے بادل کی طرح پایا، یا تجھ سے قوت لایموت جتنی بھی بلاغت ثابت ہوئی تو ہم تجھ پر اور تیرے حسن بیان پر یقین کر لیں گے اور ایمان لے آئیں گے اور تیری عالی شان صفات ہم شائع کر کے پھیلا دیں گے۔ اس (تمام تر تقریر) کے بعد اب تیرے لئے جائز ہے کہ تو ہماری اور ہماری تحریر کی غلطیوں پر گرفت کرے۔ جیساکہ آپ ہمیں جاہل اور غافل سمجھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم تجھے فصیح زبان کا مالک، اور عربی گفتگو میں یکتا سمجھتے ہیں۔ تبھی آپ کے لئے نکتہ چینی کی اجازت ہے۔ آپ کے علاوہ کسی اور کے لئے اجازت نہیں۔ لہٰذا توہی مجھ پر اور میری تحریر پر عیب جوئی اور طعنہ زنی کر سکتا ہے۔ اگر تو نے ایسا کیا (یعنی میرے عیوب اور میری تحریر کی غلطیاں نکالے گا) تو تجھے لوگوں کے مابین فاضل اور ادیب سمجھ کر تیری تعریف کی جائے گی۔ لیکن آپ یہ عیب جوئی تب کر سکتے ہیں کہ پہلے اپنا علم اور اپنی برتری تو ثابت کریں۔ لہٰذا یہ کمینے آدمی کا لباس ہوسکتاہے جو حیاء سے نکل جاتا ہے اور نابینا کی عادت ہے کہ روشنی کو بھی