احتساب قادیانیت جلد نمبر 59 |
|
نہیں دیکھ سکتا۔ وہ روشن دن کو بھی تاریک سمجھتا ہے اور بہت بڑی بارش کو بے پانی کا بادل شمارکرتا ہے۔ اگر تو اس میدان کے لوگوں میں سے ہے اور اس گھر کے خاص لوگوں میں سے ہے تو ہم پر نکتہ چینی کرنے سے پہلے اپنی انشاء پردازی کا کمال دکھا اور اس جیسی کتاب لے آ۔ پھر میرے اور اپنے درمیان کوئی بہت بڑا عقل مند آدمی منصف مقرر کر، پھر اگر وہ منصف تیرے کمال اورتیرے حسن بیان پر گواہی دے دے اور یقین کرائے کہ واقعی تیرا کلام میرے کلام سے عمدہ ہے اور تو اپنا نظام میرے نظام سے اچھا ثابت کر دکھائے تو پھر اس کے بعد تجھے اختیار ہوگا کہ تو میرے کلام کی حقیقت کو ایک بے کار فعل سمجھے اور بتلائے اور میرے خالص سونے کو کھوٹا سمجھے اور تجھے اختیار ہوگا کہ میرے چمکدار موتی کو رات کی تاریکی کی طرح تصور کرے اور میرے واضح بیان کو مٹے ہوئے راستے کی طرح خیال کرے اور میری لغزشوں کو کائنات عالم میں پھیلا دے اور اگر اس طرح نہ کر سکا اور ہرگز نہیں کر سکے گا تو پھر لعنت کرنے والوں کی لعنت سے ڈر ؎ خبردار رہ! مجھ پر کمینے جنگجو کی طرح عیب مت لگا… اگر تو میرے ساتھ جنگکرنے پر آمادہ ہے تو میدان جنگ میں نکل آ۔ اور بے شک تومجھے تحقیرکرنے والے کی طرح یاد کرتا رہتا ہے… اور ہر وقت ستانے والے کی طرح تو میری عیب گیری کرتا رہتا ہے۔ اور ہم تمام وہ باتیں سن لیتے ہیں جو تو ازراہ تکبر بیان کرتا ہے… کیا تو میرے سبزہ کو خشک گھاس کی طرح گمان کرتا ہے۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تومجھ پر حملہ کرے لیکن تو نے مجھے خود دعوت دی… اور پتہ چلا کہ تو تو مجھ پر گرم سوئی جبھونے والے کی طرح عیب گیری کرتا ہے۔ اور اے تکبر کے بیٹے اس معاملہ میں جو تو حدسے گذر گیا کوئی نیکی نہیں… اور میرا خدا کمینے جنگ کرنے والے کواندھا کر دیتا ہے۔ بس ہلاک کرنے والے نفس کو مضبوط پکڑ… اور ان اندھا پن کی راہوں سے بچے جو ایک چیز کے جداہونے کی طرح اچانک تجھے پکڑے گی۔ بس گمراہی کے راستے کو اختیارمت کر… اور اس مصیبت سے جو تجھ پر آنے والی ہے غمگین ہو اور پختہ دل سے توبہ کر۔‘‘ (ترجمہ: عربی عبارت از قلم مرزاقادیانی مندرجہ انجام آتھم ص۲۳۸تا۲۴۰، خزائن ج۱۱ ص ایضاً) کتاب (انجام آتھم ص۱۶۳،۱۶۴) پر یہ عبارت پائی جاتی ہے: ’’فان یبق احدمنکم